سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 42 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 42

42 دروازہ کے عین مجاز میں ہوتا ہوں بسا اوقات ایک اجنبی جو مارے شوق کے سر زده اندر داخل ہوا ہے تو سیدھا میری طرف ہی آیا ہے اور پھر خود ہی اپنی غلطی پر منتقبہ ہوا ہے یا حاضرین میں سے کسی نے اس حقدار کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔آپ کی مجلس میں احتشام اور وقار اور آزادی اور بے تکلفی دونوں ایک ہی وقتہ میں جمع رہتے ہیں ہر ایک خادم ایسا یقین کرتا ہے کہ آپ کو خصوصا مجھ سے ہی پیار ہے۔جو جو کچھ چاہتا ہے بے تکلفی سے عرض کرلیتا ہے گھنٹوں کوئی اپنی داستان شروع رکھے اور وہ کیسی ہی بے سروپا کیوں نہ ہو آپ پوری توجہ سے سنے جاتے ہیں۔بسا اوقات حاضرین اپنی بساط قلب اور وسعت حوصلہ کے موافق سنتے سنتے اکتا گئے ہیں انگڑائیاں اور جمائیاں لینے لگ گئے ہیں مگر حضرت کی کسی حرکت نے ایک لحظہ کے لئے بھی کبھی کوئی ملال کا نشان ظاہر نہیں کیا۔آپ کی مجلس کا یہ رنگ نہیں کہ آپ سرنگوں اور متفکر بیٹھے ہوں اور حاضرین سامنے حلقہ کئے یوں بیٹھے ہوں جیسے دیواروں کی تصویریں ہیں بلکہ وقت کے مناسب آپ تقریر کرتے ہیں اور کبھی کبھی مذاہب باطلہ کی تردید میں بڑے زور و شور سے تقریر فرماتے ہیں گویا اس وقت آپ ایک عظیم الشان لشکر پر حملہ کر رہے ہیں اور ایک اجنبی ایسا خیال کرتا ہے کہ ایک جنگ ہو رہی ہے۔آپ کی مجلس کا رنگ ہو بہو نبوت کا (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) رنگ ہے حضرت سرور عالم کی مسجد ہی آپ کی انجمن تھی اور وہی ہر قسم کی ضرورتوں کے پورا کرنے کی جگہ تھی ایک درویش دنیا سے قطع کر کے جنگل میں بیٹھا ہوا اور اپنے تئیں اسی شغل بے شغلی میں پورا با خدا سمجھنے والا اگر ایسے وقت میں آپ کی مسجد میں آجائے کہ جب آپ جہاد کی گفتگو کر رہے ہیں اور ہتھیاروں کو صاف کرنے اور تیز کرنے کا حکم دے رہے ہیں تو وہ کیا خیال کر سکتا ہے کہ آپ ایسے رحیم کریم ہیں کہ رحمتہ للعالمین ہونے کا حق اور بجا دعوی کر رکھا ہے اور ساری دنیا سے زیادہ خدا اور اس کی مخلوق کے حقوق کی رعایت رکھنے والے ہیں۔