سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 29
29 کے لئے شیر کی طرح میں بجیں رہنا اور چیتے کی طرح مونچھوں کو تاؤ دیتے رہنا اور سیمہ کے کانٹوں کی طرح کھڑا رکھنا ضروری ہے مگر اس نے ٹھوکر کھائی ہے اور اس کے شریر نفس نے اسے سخت دھوکا دیا ہے کاش اسے خبر ہوتی کہ اس کا سارا گلہ اس سے بیزار ہے اور وہ اس وقت بڑے خوش ہوتے ہیں جب وہ گرگ وش گلہ بان ان کے سر پر نہ ہو۔کبھی گھر میں حساب نہیں لیتے کہ جتنا تم نے مانگا تھا واقعی اتنا خرچ بھی ہوا اور کہاں کہاں ہوا اور اتنا زیادہ لیا گیا۔اور فلاں چیز اس اندازہ سے کم ہے اور ان اخراجات اور آمدنیوں کے لئے کوئی حساب کتاب یا بہی کھاتہ نہیں۔خدا تعالٰی نے آپ کا قلب ایسا وسیع اور صدر ایسا منشرح بنایا ہے کہ ان امور کی فکریں اور کاوشیں اور یہ مادی نجس اس میں دخل پاہی نہیں سکتے۔میں مانتا ہوں کہ ایک دنیا دار جس کا خدا اپنا ہی ناتواں نفس ہے یہ چال اختیار نہیں کر سکتا اور نہ کرنی چاہتا ہے اور اگر وہ تکلف سے اختیار بھی کرے تو ممکن ہے کہ اس کا سا اشیرازہ ادھر جائے اور تارو پور ٹوٹ پھوٹ جائے مگر زندہ اور قادر خدا پر ایمان رکھنے والوں کے قول اور فعل نرالے ہی ہو۔تے ہیں۔ان کی راستی اور خدا پر غیر مذہذب بھروسہ میں نامراد نہ ہونے کا صاف ثبوت یہی ہے کہ سب سے زیادہ مستقیم الاحوال اور ان محتمل اور ممکن تاہیوں اور خانہ ویرانیوں سے محفوظ ہیں جو ایسی صورتوں میں ایک دنیا دار کے خیال و گمان میں آتی ہیں۔اور در حقیقت خدا والوں کو ان جز درسیوں اور بہی کھاتوں کی فکروں۔اسے جو شامت اعمال اور عدم تقوی سے کلاب الدنیا کے طائر عنیق ہو رہی ہیں کیا تعلق ہے ایک روز حضرت اقدس فرماتے تھے اگر انسانوں میں تقوی ہو تا تو پرندوں کی طرح بھوکے نکلتے اور پیٹ بھر کر واپس آتے۔در حقیقت یہ آگ طلب دنیا کی جس نے آدم کے بیٹے کو کتے کی جنس سے بنا دیا ہے کہ ہر وقت ہانپتا رہتا اور ایک اندرونی جلن ہے جو اسے لگی ہوئی ہے اس کی جڑ خدا کے وعدوں پر یقینی اعتماد اور توکل نہ ہونا اور اپنے ہی قوی کو امید و بیم کا مرجع ٹھہرانا ہے مو بھی