سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 78 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 78

ZA ہونا عرب کی متحدہ روایات سے قطعی طور پر ثابت ہے اور عرب کی کوئی ایک روایت بھی اس کے خلاف نہیں پائی جاتی۔نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد ی اور چونکہ کسی قوم کی تاریخ کے متعلق سب سے مقدم شہادت اس کی اپنی صحیح روایات ہی ہوتی ہیں۔اس لیے مذکورہ بالا شہادت کے ہوتے ہوئے کوئی غیر متعصب شخص اس بات میں شک نہیں کر سکتا کہ حضرت اسمعیل عرب میں آکر آباد ہوئے اور قریش کا قبیلہ آپ ہی کی مبارک نسل میں سے تھا۔۲- قرآن شریف نے بھی جس کی تاریخی اسناد دوست و دشمن میں مسلم ہے قریش کونسل ابراہیم میں شمار کیا ہے۔- -۵ خود بائیبل سے یہ ثابت ہے کہ حضرت سارہ کی ناراضگی کی وجہ سے حضرت اسمعیل اور حضرت ہاجرہ وطن سے بے طن ہوئے۔اب اگر حجاز وہ ملک نہیں جہاں وہ آ کر آباد ہوئے تو پھر وہ جگہ کونسی ہے جہاں اُن کی نسل پائی جاتی ہے۔بائیبل سے یہ ثابت ہے کہ حضرت اسمعیل اور اُن کی والدہ ایسی جگہ جا کر آباد ہوئے تھے جو غیر آباد اور بیابان جگہ تھی۔جہاں کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ملتی تھی اور نہ کوئی آبادی تھی ہے اور یہ نقشہ مکہ کی واد غیر ذی زرع پوری پوری مطابقت رکھتا ہے۔پھر بائیبل سے ہی اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ وطن سے نکلنے کے بعد حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل فاران میں جا کر آباد ہوئے تھے۔اور قطع نظر اس کے کہ فاران کے معنے ہی ایک غیر آباد بنجر جگہ کے ہیں۔عرب کے جغرافیہ دان اس بات پر متفق ہیں کہ فاران مکہ یا حجاز کی پہاڑیوں کا نام ہے۔اور جو لوگ عرب میں ہو آئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان وادی فاطمہ میں جو بچے گل جذیمہ بیچتے نظر آتے ہیں، اُن سے اگر یہ پوچھا جاوے کہ یہ پھول کہاں سے لائے گئے ہیں تو اُن کا جواب یہ ہوتا ہے کہ مِنْ بَرِيَّةِ فَارَانَ لے: دیکھو بخاری ومسلم وطبری وابن ہشام وابن سعد زرقانی وخمیس وغیرہ قرآن شریف سورۃ حج آیت : ۷۹ ۴ : پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۴ تا ۲۱ : فصل الخطاب جلد ۲ صفحه ۳۸ ۳ : پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۴ ۵ : پیدائش باب ۲۱ آیت ۲۱ ک : معجم البلدان جلد ۶ صفحه ۳۲۳