سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 816
۸۱۶ ۴ یہودی لوگ پہلے سے اسلام کے خلاف برسر پیکار تھے اور مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان جنگ کی حالت قائم تھی۔اس وقت ایسے حالات تھے کہ اگر کھلے طور پر یہود کے خلاف فوج کشی کی جاتی تو اس سے جان اور مال کا بہت نقصان ہوتا اور اس بات کا اندیشہ تھا کہ جنگ کی آگ وسیع ہوکر ملک میں عالمگیر تباہی کا رنگ نہ پیدا کر دے۔ان حالات میں صحابہ نے جو کچھ کیا وہ بالکل درست اور بجا تھا اور حالت جنگ میں جب کہ ایک قوم موت وحیات کے ماحول سے گزر رہی ہو اس قسم کی تدابیر بالکل جائز بھی جاتی ہیں اور ہر قوم اور ہر ملت انہیں حسب ضرورت ہر زمانہ میں اختیار کرتی رہی ہے مگر افسوس ہے کہ موجودہ اخلاقی پستی کے زمانے میں مجرم کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ اس ناجائز حد تک پہنچ گیا ہے کہ ایک ظالم بھی ہیرو بن جاتا ہے اور وہ سزا جو وہ اپنے جرموں کی وجہ سے پاتا ہے عوام کی ہمدردی کی جاذب ہونے لگتی ہے اور اس کے جرم لوگوں کو بھول جاتے ہیں مگر اسلام کے متعلق ہمیں اعتراف ہے کہ وہ ان جھوٹے جذبات کا مذہب نہیں ہے وہ مجرم کو مجرم قرار دیتا ہے اور اس کی سزا کو ملک اور سوسائٹی کے لئے رحمت سمجھتا ہے۔وہ ایک سٹرے ہوئے عضو کو جسم سے کاٹ دینے کی تعلیم دیتا ہے اور اس بات کا انتظار نہیں کرتا کہ ایک متعفن عضوا چھے اور تندرست اعضاء کوخراب کر دے۔باقی رہا طریق سزا کا سوال سو اس کے متعلق بتایا جا چکا ہے کہ عرب کے اس وقت کے حالات کے ماتحت اور اس حالت جنگ کے پیش نظر جو اس وقت مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان قائم تھی جو طریق اختیار کیا گیا امن عامہ کے لحاظ سے وہی بہتر اور مناسب تھا۔چنانچہ ہم اس بارے میں ایک اصولی بحث کعب بن اشرف کے معاملہ میں حصہ دوم میں درج کر چکے ہیں جس کے اعادہ کی اس جگہ ضرورت نہیں۔عبد اللہ بن عتیک کی پنڈلی کے شفا پانے کے متعلق بخاری کی روایت میں یہ تصریح نہیں ہے کہ آیا یہ شفا خارق عادت رنگ میں فوری طور پر وقوع میں آگئی تھی یا یہ کہ آہستہ آہستہ اپنے طبعی کورس کو پورا کر کے ظاہر ہوئی۔مؤخر الذکر صورت میں یہ ایک عام واقعہ سمجھا جائے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا اثر صرف اس قدر متصور ہوگا کہ آپ کی دعا کی برکت سے اس چوٹ نے کوئی مستقل اثر نہیں چھوڑا اور کوئی خراب نتیجہ نہیں نکلا بلکہ عبداللہ کی پنڈلی نے بالآخر اپنی اصلی اور پوری طاقت حاصل کر لی اور چوٹ کا اثر کلیتا زائل ہو گیا لیکن اگر یہ شفا خارق عادت رنگ میں فوری طور پر وقوع میں آئی تھی تو یقینا یہ واقعہ خدا تعالیٰ