سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 801
۸۰۱ میں نجات کو محدود نہیں کیا مگر بہت سے دینی حقوق و فرائض کو ایک خاص گروہ کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے جسے پر یسٹ ہڈ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے چنانچہ عیسائیوں کے متعدد دینی امور بلکہ بعض تمدنی امور بھی ایک پریسٹ کی وساطت کے بغیر سرانجام نہیں پاسکتے۔اسی طرح ہندوؤں میں بعض دینی حقوق کو صرف برہمن کا ورثہ قرار دیا گیا ہے اور دوسرے لوگ اس سے محروم ہیں۔گویا ان قوموں نے نہ صرف دوسری اقوام کو نجس اور پلید قرار دے کر دھتکار دیا ہے بلکہ خود اپنے اندر بھی دینی اور مذہبی امور میں ناگوار طبقات کا وجود تسلیم کر کے خدائی انعامات کو بعض خاص طبقوں کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے مگر اسلام کا دامن ان سب ناپاک جذبہ داریوں کے داغ سے پاک ہے بلکہ جس طرح اس نے دنیوی حقوق میں پوری پوری مساوات قائم کی ہے اسی طرح اس نے دینی امور میں بھی انصاف اور مساوات کے ترازو کوکسی طرف جھکنے نہیں دیا چنا نچہ اس بارے میں ایک اصولی قرآنی آیت اوپر کی بحث میں گزرچکی ہے جو یہ ہے۔إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ الْقُكُمْ یعنی اے لوگو سن رکھو کہ تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ معزز اور زیادہ مقرب وہ شخص ہے جو زیادہ متقی اور زیادہ نیک اور زیادہ صالح ہے۔“ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ قرب الہی کے حصول کے معاملہ میں کسی قوم یا کسی طبقہ کی خصوصیت نہیں بلکہ سب گورے کالے، بڑے چھوٹے ، طاقتور کمزور ، مرد عورت خدا کا قرب حاصل کرنے کے معاملہ میں برابر ہیں اور آگے آنے کے لئے صرف ذاتی تقوی اور ذاتی نیکی کی ضرورت ہے۔ان مختصر الفاظ میں خدا تعالیٰ نے یہ اشارہ بھی کر دیا ہے کہ جب ہم بادشاہوں کے بادشاہ ہو کر سب کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنا قرب عطا کرنے میں ذاتی تقویٰ و طہارت کے سوا کسی اور بات کا خیال نہیں کرتے تو پھر دوسروں کو تو بدرجہ اولیٰ یہ چاہئے کہ ذاتی اوصاف کے سوا کسی اور بات پر اپنے انتخاب کی بنیاد نہ رکھا کریں۔پھر دینی امور میں جزا اور سزا اور انعام و الزام کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ نُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ = یعنی ”جو شخص بھی خواہ وہ کوئی ہو ایک ذرہ بھر بھی نیکی کرتا ہے وہ ہم سے اس کا اجر پائے گا لے یہ صرف موجود الوقت عیسائیوں کا حال ہے ورنہ خود حضرت مسیح نے تو غیر اسرائیلی اقوام کو سنتے کہہ کر دھتکار دیا ہے۔مثلا دیکھئے مرقس باب ۱۷ آیت ۲۴ تا ۲۷ : سورة الحجرات : ۱۴ ے : سورۃ الزلزال : ٩،٨