سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 787 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 787

ZAZ اوصاف پر مبنی ہونا چاہئے اور بہر حال خدا کے نزدیک زیادہ عزت والا شخص وہ ہے جود بینداری اور تقویٰ اور جذ بہ خدمت میں دوسروں سے آگے ہے۔(۵) اس کے بعد اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ کسی شخص کے دینی امتیاز یاد نیوی بڑائی کی وجہ سے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ قضائی اور عدالتی معاملات میں کوئی فرق ملحوظ رکھا جائے کیونکہ عدالتی حقوق کے میدان میں سب لوگ قطعی طور پر برابر ہیں۔(۶) اس کے بعد اسلام اس زریں اصول کو بیان کرتا ہے کہ قومی عہدوں کی تقسیم میں صرف ذاتی اہلیت کو دیکھنا چاہئے اور بلالحاظ امیر وغریب اور بلالحاظ نسل و خاندان جو شخص بھی کسی عہدہ کا اہل ہو ا سے وہ عہدہ سپر د کرنا چاہئے خواہ وہ کوئی ہو۔(۷) اس کے بعد اسلام یہ ارشاد فرماتا ہے کہ گوکسی صاحب عزت شخص کا واجبی اکرام کرنا اچھے اخلاق کا حصہ ہے مگر تمدنی معاملات میں سب مسلمانوں کو آپس میں اس طرح مل جل کر رہنا چاہئے کہ وہ ایک خاندان کے افراد نظر آئیں۔وہ مجلسوں میں بلا لحاظ امیر وغریب مل جل کر بیٹھیں۔اگر کوئی امیر دعوت کرے تو اس میں غریبوں کو بھی ضرور بلائے اور اگر کوئی غریب دعوت کرے تو امیر اس سے انکار نہ کریں اور (۸) بالآخر اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ بیاہ شادی کے معاملات میں بیوی کا انتخاب اس کے ذاتی اوصاف اور ذاتی نیکی کی بنا پر ہونا چاہئے نہ کہ اس کے حسب نسب اور مال و دولت وغیرہ کی بنا پر۔اسلام میں دولت کی تقسیم کا نظریہ اس کے بعد دولت کی تقسیم کا سوال آتا ہے جو آج کل کی اشتراکیت اور سرمایہ داری کی باہمی کشمکش کی جولانگاہ بنا ہوا ہے۔سوگواس بحث کا اصل موقع تو انشاء اللہ دوسری جگہ آئے گا۔مگر اس جگہ مختصر طور پر اس قدر بیان کر دینا ضروری ہے کہ اس اہم سوال کے متعلق بھی اسلام نے ایک ایسی اعلیٰ اور وسطی تعلیم دی ہے جس کی نظیر کسی دوسری جگہ نہیں ملتی کیونکہ جہاں اسلام نے عام حالات میں دولت پیدا کرنے کے انفرادی حق کو تسلیم کیا ہے وہاں اس نے ملکی دولت کو سمونے کے لئے ایک ایسی مشینری بھی قائم کر دی ہے کہ اگر اسے اختیار کیا جائے تو کسی ملک یا کسی قوم کی دولت کبھی بھی عامۃ الناس کے ہاتھوں سے نکل کر چند افراد کے ہاتھوں میں جمع نہیں ہوسکتی۔میں اس جگہ اختصار کے خیال سے اس مشین کے صرف چار پرزوں کے بیان پر اکتفا کروں گا۔ا۔سب سے اول نمبر پر اسلامی قانون ورثہ ہے جس کی رو سے ہر مرنے والے کا ترکہ صرف ایک بچے یا صرف نرینہ اولاد یا صرف اولاد کے ہاتھ میں ہی نہیں جاتا بلکہ سارے لڑکوں اور ساری لڑکیوں اور بیوی اور خاوند اور ماں اور باپ اور بعض صورتوں میں بھائیوں اور بہنوں اور دوسرے