سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 780
ZA+ لَخَلِيقَالِلَامَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ اَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ یعنی ” تم اسامہ کی امارت پر نکتہ چینی کرتے ہو اور اس سے قبل تم اس کے باپ زید پر بھی نکتہ چینی کر چکے ہو۔خدا کی قسم جس طرح اس کا باپ امارت کا اہل تھا اور مجھے بہت محبوب تھا اسی طرح اس کے بعد اسامہ بھی امارت کا اہل ہے اور مجھے بہت محبوب ہے۔“ میه اسی مبارک تعلیم کا نتیجہ تھا کہ اسلام میں ہمیشہ بظاہر ادنی ترین لوگوں نے اعلیٰ سے اعلیٰ ترقی حاصل کی اور کبھی کسی شخص کی غربت یا نسلی پستی اس کی ترقی میں روک نہیں بنی۔چنانچہ اس کی مزید مثالیں دیکھنی ہوں تو اس کتاب کے حصہ دوم کا وہ باب ملاحظہ کیا جائے جو غلامی کی بحث سے تعلق رکھتا ہے۔سوشل اجتماعوں میں برادرانہ اختلاط اس جگہ یہ سوال ہوسکتا ہے کہ عہدوں اور ذمہ داری کے کاموں کے متعلق تو بے شک اسلام نے حقیقی مساوات کی تعلیم دی ہے اور سب کے لئے ترقی کا ایک جیسا رستہ کھول دیا ہے مگر ہوسکتا ہے کہ اس انتظامی مساوات کے باوجود تمدنی معاملات اور آپس کے میل ملاقات کے بارے میں مختلف قسم کے لوگوں میں خلیج باقی رہے اور اسلام نے اس خلیج کو دور نہ کیا ہو۔سو اس کے جواب میں یا درکھنا چاہئے کہ اسلام نے اس رخنہ کو بھی بڑی سختی کے ساتھ بند کیا ہے۔چنانچہ اس قرآنی ارشاد کے علاوہ جو اوپر گزر چکا ہے کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور انہیں بھائیوں کی طرح مل کر رہنا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمدنی تعلقات کے سب سے بڑے ذریعہ اور سب سے بڑے میدان یعنی آپس کی دعوتوں اور کھانے پینے کی ملاقاتوں وغیرہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ : شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْاَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ _ یعنی سب سے بری اور سب سے زیادہ قابل نفرت دعوت وہ دعوت ہے جس میں صرف امیر بلائے جائیں اور غریبوں کو نہ بلایا جائے اور جو شخص کسی بھائی کی دعوت کا انکار کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نا فرمان ہے۔“ اس مبارک ارشاد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو سخت نا پسند فرمایا ہے کہ امیر لوگ اپنی دعوتوں وغیرہ میں صرف امیروں کو مدعو کریں اور غریبوں کو گویا کوئی اور جنس خیال کرتے ہوئے بھول بخاری ابواب مناقب : سورة الحجرات : 11 : بخاری کتاب النکاح