سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 740 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 740

۷۴۰ سرزد ہوا ہے۔حضرت عمر نے جواب دیا۔اللہ اکبر ! تم اس کے قاتل ہو! تم سے قصاص لیا جائے گا ورنہ کوئی بریت ہے تو پیش کرو۔غریب ذمیوں کی امداد اسلامی حکومت میں غریب اور نادار غیر مسلم رعایا کی مالی امداد کا بھی انتظام کیا جاتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت عمر نے ایک بوڑھے یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا تو اس سے پوچھا کیا ماجرا ہے؟ اس نے کہا۔بوڑھا ہو گیا ہوں اور نظر کمزور ہے۔کام ہونہیں سکتا اور جزیہ کی رقم بھی ابھی مجھ پر لگی ہوئی ہے۔یہ سن کر حضرت عمرؓ بے چین ہو گئے۔فوراً اسے اپنے ساتھ لیا اور اپنے گھر لا کر مناسب امداد دی اور پھر بیت المال کے افسر کو بلا کر کہا کہ یہ کیا بے انصافی ہے کہ ایسے لوگوں پر جزیہ لگایا جاتا ہے! ہمیں تو حکم ہے کہ غرباء کی امداد کریں نہ کہ الٹا ان پر ٹیکس لگائیں۔اس کے بعد ایک عام حکم جاری فرمایا کہ ایسے لوگوں پر جزیہ نہ لگایا جاوے بلکہ اس قسم کے مستحق لوگوں کو بیت المال سے وظیفہ دیا جاوے کے ذمیوں کی امداد تو الگ رہی اسلام میں حربی دشمنوں کی امداد کی مثالیں بھی مفقود نہیں ہیں چنانچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب ۵ ہجری میں مکہ میں قحط پڑا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے مکہ والوں کی امداد کے لئے کچھ چاندی بھجوائی حالانکہ ابھی تک قریش مکہ اسلام کے خلاف برسر پیکار تھے۔احساسات کا احترام جذبات واحساسات کا رشتہ نہایت نازک ہوتا ہے اور فاتح اور غالب اقوام عموماً اس معاملہ میں بہت بے اعتنائی دکھاتی ہیں کیونکہ اس کا دار و مدار کسی قانون پر نہیں ہوتا بلکہ صرف اس روح پر ہوتا ہے جو قلوب میں مخفی ہوتی ہے اور جس پر کوئی مادی قانون حکومت نہیں کر سکتا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اپنے غلبہ اور حکومت کے زمانہ میں بھی غیر مسلموں کے احساسات کا بہت خیال رکھتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ مدینہ میں ایک یہودی نو جوان بیمار ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ اس کی عیادت کو تشریف لے گئے۔اور اس کی حالت کو نازک پا کر آپ نے اسے اسلام کی تبلیغ فرمائی۔وہ آپ کی تبلیغ سے متاثر ہوا مگر چونکہ اس کا باپ زندہ تھا اور اس وقت پاس ہی کھڑا تھا۔وہ ایک سوالی کی ہیئت بنا کر باپ کی طرف دیکھنے لگ گیا۔باپ نے لے : اسدالغابہ ذکر بکر بن شداخ نیز اس غلط خیال کی تردید کے لئے کہ ایک مسلمان کا فر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جاسکتا دیکھو طحاوی باب المومن يقتل الكافر متعمداً کتاب الخراج قاضی ابو يوسف فصل في من تجب ۳ : تاریخ الخمیس جلد اصفحه ۵۲۸ عليه الجزية صفحه ۷۴