سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 620 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 620

۶۲۰ مکان پر تشریف لے گئے۔اس وقت اتفاق سے زید اپنے مکان پر نہیں تھے۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے سے باہر کھڑے ہو کر زید کو آواز دی تو زینب نے اندر سے جواب دیا کہ وہ مکان پر نہیں ہیں اور ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پہچان کر وہ لپک کر اٹھیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔آپ اندر تشریف لے آئیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا اور واپس لوٹنے لگے مگر چونکہ حضرت زینب گھبرا کرایسی حالت میں اٹھ کھڑی ہوئی تھیں کہ ان کے بدن پر اوڑھنی نہیں تھی اور مکان کا دروازہ کھلا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ان پر پڑ گئی اور آپ نعوذ باللہ ان کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر یہ الفاظ گنگناتے ہوئے واپس لوٹ گئے کہ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ اللهِ مُصَرِفِ الْقُلُوبِ پاک ہے وہ اللہ جوسب بڑائی والا ہے اور پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں لوگوں کے دل ہیں جدھر چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے۔جب زید بن حارثہ واپس آئے تو زینب نے ان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کا قصہ بیان کیا۔اور زید کے دریافت کرنے پر کہ آپ کیا فرماتے تھے انہوں نے آپ کے یہ الفاظ بھی بیان کئے اور کہا میں نے تو عرض کیا تھا کہ آپ اندر تشریف لے آئیں مگر آپ نے انکار فرمایا اور واپس تشریف لے گئے۔یہ سن کر زید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور کہا یا رسول اللہ ! شاید آپ کو زینب پسند آ گئی ہے اگر آپ پسند فرما ئیں تو میں اسے طلاق دیئے دیتا ہوں اور پھر آپ اس کے ساتھ شادی فرمالیں۔آپ نے فرمایا ” زید خدا کا تقویٰ کرو اور زینب کو طلاق نہ دو۔مگر اس کے بعد زید نے زینب کو طلاق دے دی۔یہ وہ روایت ہے جو ابن سعد اور طبری وغیرہ نے اس موقع پر بیان کی ہے اور گو اس روایت کی ایسی تشریح کی جاسکتی ہے جو چنداں قابل اعتراض نہیں رہتی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ قصہ از سر تا پا محض غلط اور جھوٹ ہے اور روایت و درایت ہر دو طرح سے اس کا جھوٹا ہونا ظاہر ہے۔روایا تو اس قدر جاننا کافی ہے کہ اس قصہ کے راویوں میں زیادہ تر واقدی اور عبداللہ بن عامر اسلمی کا واسطہ آتا ہے اور یہ دونوں شخص محققین کے نزدیک بالکل ضعیف اور نا قابل اعتماد ہیں یا حتی کہ واقدی تو اپنی کذب بیانی اور دروغ بانی میں ایسی شہرت رکھتا ہے کہ غالبا مسلمان کہلانے والے راویوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی ہے اور اس کے مقابلہ میں وہ روایت جو ہم نے اختیار کی ہے جس میں زید کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر زینب کی بدسلوکی کی تہذیب التہذیب حالات واقدمی و عبد اللہ بن عامر تہذیب التہذیب حالات واقدی وزرقانی جلدا