سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 611 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 611

۶۱۱ زینب بنت جحش کی شادی ۵ ہجری اسی سال یعنی ہجرت کے پانچویں سال میں غزوہ بنی مصطلق سے کچھ عرصہ پہلے جو شعبان ۵ ہجری میں واقع ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش سے شادی فرمائی۔بعض مؤرخین مثلاً ابن اثیر اور صاحب خمیس وغیرہ نے زینب بنت جحش کی شادی کو غزوہ بنی مصطلق کے بعد رکھا ہے مگر یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ یہ بات صحیح بخاری سے ثابت ہے کہ جس وقت حضرت عائشہ پر اتہام لگایا گیا تھا اس وقت زینب بنت جحش کی شادی ہو چکی تھی اور حضرت عائشہ کے خلاف الزام لگائے جانے کا واقعہ مسلمہ طور پر غزوہ بنی مصطلق کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔حضرت زینب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی صاحبزادی تھیں اور باوجود نہایت درجہ نیک اور متقی ہونے کے ان کی طبیعت میں اپنے خاندان کی بڑائی کا احساس بھی کسی قدر پایا جاتا تھا۔اس کے مقابلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت اس قسم کے خیالات سے بالکل پاک تھی اور گو آپ خاندانی حالات کو مدنی رنگ میں قابل لحاظ سمجھتے تھے مگر آپ کے نزدیک بزرگی کا حقیقی معیار ذاتی خوبی اور ذاتی تقوی وطہارت پر مبنی تھا۔جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے کہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ الْقُكُمْ یعنی ”اے لوگو! تم میں سے جو شخص زیادہ متقی ہے وہی زیادہ بڑا اور صاحب عزت ہے۔پس آپ نے بلاکسی تامل کے اپنی اس عزیزہ یعنی زینب بنت جحش کی شادی اپنے آزاد کردہ غلام اور متبنی زید بن حارثہ کے ساتھ تجویز فرما دی۔پہلے تو زینب نے اپنی خاندانی بڑائی کا خیال کرتے ہوئے اسے ناپسند کیا۔لیکن آخر کار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پر زور خواہش کو دیکھ کر رضا مند ہو گئیں۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش اور تجویز کے مطابق زینب اور زید کی شادی ہوگئی۔اور گوزینب نے ہر طرح شرافت سے نبھاؤ کیا۔مگر زید نے اپنے طور پر یہ محسوس کیا کہ زینب کے دل میں ابھی تک یہ خلش مخفی ہے کہ میں ایک معزز خاندان کی لڑکی اور آنحضرت ملی اللہ علیہ وسلم کی قریبی رشتہ دار ہوں اور زید ایک محض آزاد شدہ غلام ہے اور میرا کفو نہیں۔دوسری طرف خود زید کے دل میں بھی زینب کے مقابلہ میں اپنی پوزیشن کے چھوٹا ہونے کا احساس تھا۔اور اس احساس نے آہستہ آہستہ زیادہ مضبوط ہو کر ان کی خانگی زندگی کو بے لطف کر دیا اور میاں بیوی میں ناچاقی رہنے لگی۔جب یہ نا گوار حالت زیادہ ترقی کر گئی تو زید بن حارثہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کتاب المغازی حدیث افک : سورة حجرات : ۱۴ ابن جریر طبرانی بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۲۴۵ نیز ابن سعد جلد ۸ حالات زینب بنت جحش