سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 610
۶۱۰ بے جا تو ہمات کو مٹایا ہے بلکہ ہر ایسے موقع پر جہاں بیجا تو ہمات کا دروازہ کھل سکتا تھا ایسی عبادات مقرر کر دی ہیں جو فوراً انسان کو خدا کی طرف متوجہ کر کے مشرکانہ خیالات کا سد باب کر دیتی ہیں۔چنانچہ خسوف وغیرہ کے موقع پر عبادت مقرر کرنے میں بڑی حکمت یہی ہے کہ تا مسلمانوں کو اس بات کی طرف توجہ پیدا ہو کہ دنیا کی زندگی میں جو نو ر اور روشنی بھی انسان کو پہنچتی ہے اس کا ظاہری آلہ خواہ کوئی چیز ہومگر در اصل اس کا منبع ذات باری تعالی ہی ہے اور اس لئے اگر کسی وجہ سے اس روشنی میں کوئی روک پیدا ہو جاوے تو خواہ یہ روک عام طبعی قوانین کے ماتحت ہی ہوا سے اس موقع پر خدا ہی کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔دراصل اسلام نے انسان کی زندگی کے ہر حرکت وسکون اور اس کے ماحول کے ہر تغیر کے ساتھ ذکر الہی کو وابستہ کر دیا ہے تا کہ کوئی گھڑی اس پر غفلت کی نہ آئے۔مگر یہ ایک الگ مذہبی مبحث ہے جس میں پڑنا ایک مؤرخ کا کام نہیں۔مکہ کا قحط اور قریش کے ساتھ غزوہ بدر الموعد کے بیان میں مکہ کے قحط کا بھی ذکر گزر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمدردی چکا ہے یہ قحط ابھی تک جاری تھا۔قریش مکہ اس قحط سے بہت تکلیف میں مبتلا ہو گئے اور غرباء کو تو سخت مصیبت کا سامنا ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اس تکلیف کی اطلاع ہوئی تو آپ نے از راہ ہمدردی مکہ کے غرباء کے لئے اپنی طرف سے کچھ چاندی بھجوائی یا اور اس طرح آپ نے اس بات کا ایک عملی ثبوت دیا کہ آپ کا دل آپ کے سخت ترین دشمنوں کے ساتھ بھی ایک گہری اور حقیقی ہمدردی رکھتا ہے اور یہ کہ آپ کی مخالفت صرف عقائد و خیالات کے ساتھ تھی نہ کہ کسی انسان کے ساتھ۔بخاری سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اور موقع پر بھی مکہ والے قحط میں مبتلا ہوئے تھے تو ان کی طرف سے ابوسفیان بن حرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تھا اور رشتہ داری اور قرابت کا واسطہ دے کر تحریک کی تھی کہ ان کے لئے اس قحط کے دور ہونے کی دعا کی جاوے یہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل مکہ کے جذبات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مخلوط قسم کے تھے۔یعنی وہ آپ کی ذاتی نیکی اور تقوی وطہارت کے بھی قائل تھے مگر آپ کی تعلیم کو اپنے قدیم طریق عمل اور مشرکانہ خیالات کے خلاف پاتے ہوئے اسے مٹانے کے بھی درپے تھے۔خیالات میں اس قسم کا خلط علم النفس کے اصول کے ماتحت ناممکن نہیں ہے۔: تاریخ الخمیس جلد اصفحه ۵۲۸ بخاری ابواب الاستسقاء