سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 608
۶۰۸ دور دراز کے تکلیف دہ سفر کو اختیار کر کے آپ کے ساتھ ہو لئے۔اور آپ ہجرت کے پانچویں سال ماہ ربیع الاول میں مدینہ سے روانہ ہوئے یے اور پندرہ سولہ دن کی طویل اور پر از مشقت مسافت طے کرنے کے بعد دومۃ الجندل کے قریب پہنچے۔مگر وہاں جا کر معلوم ہوا کہ یہ لوگ مسلمانوں کی خبر پا کر ادھر ادھر منتشر ہو گئے تھے اور گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں چند دن تک ٹھہرے اور آپ نے چھوٹے چھوٹے دستے بھی ادھر ادھر روانہ فرمائے تا کہ ان مفسدین کا کچھ پتہ چلے مگر وہ کچھ ایسے لا پتہ ہوئے کہ ان کو کوئی سراغ نہ ملا۔البتہ ان کا ایک چرواہا مسلمانوں کے ہاتھ میں قید ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ سے مسلمان ہو گیا اور آپ چند دن قیام کے بعد مدینہ کی طرف واپس تشریف لے آئے۔۔جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے یہ غزوہ اس رنگ میں پہلا غزوہ تھا کہ اس کی غرض یا کم از کم بڑی غرض ملک میں امن کا قیام تھی۔اہل دومہ کا مسلمانوں کے ساتھ کوئی جھگڑانہیں تھا وہ مدینہ سے اتنی دور تھے کہ ان کی طرف سے بظاہر یہ اندیشہ کسی حقیقی خطرہ کا موجب نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ اتنے لمبے سفر کی صعوبت برداشت کر کے مدینہ میں مسلمانوں کی پریشانی کا موجب ہوں گے۔پس ان کے مقابلہ کے لئے پندرہ سولہ دن کا تکلیف دہ سفر اختیار کرنا حقیقتا سوائے اس کے اور کسی غرض سے نہیں تھا کہ انہوں نے جو اپنے علاقہ میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری کر رکھا تھا اور بے گناہ قافلوں اور مسافروں کو تنگ کرتے تھے اس کا سد باب کیا جاوے۔پس مسلمانوں کا یہ سفر محض رفاہ عام اور ملک کی مجموعی بہبودی کے لئے تھا جس میں ان کی اپنی کوئی غرض مد نظر نہیں تھی۔اور یہ ایک عملی جواب ہے ، ان لوگوں کا جنہوں نے سراسر ظلم اور بے انصافی کے ساتھ مسلمانوں کی ابتدائی جنگی کارروائیوں کو جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ما تحت اختیار کیں جارحانہ یا خود غرضانہ قرار دیا ہے۔اس غزوہ کا ایک نتیجہ تو یہ ہوا کہ اہل دومہ مرعوب ہو کر اپنی ان مفسدانہ کارروائیوں سے باز آگئے اور مظلوم مسافروں کو اس ظلم سے نجات مل گئی اور دوسرے شام کی سرحد میں جہاں ابھی تک مسلمانوں کا صرف نام ہی پہنچا تھا اور لوگ اسلام کی حقیقت سے بالکل نا آشنا تھے اسلام کا ایک گونہ انٹروڈکشن ہو گیا اور اس علاقہ کے لوگ مسلمانوں کے طریق و تمدن سے ایک حد تک واقف ہو گئے۔دومۃ الجندل کے قرب وجوار میں بعض عیسائی بھی آباد تھے۔مگر روایات میں یہ مذکور نہیں ہے کہ ا: ابن سعد معجم البلدان ابن ہشام : ابن سعد