سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 605
بہترین مثال اس دنیا کی ہوسکتی ہے جس طرح اور جس رنگ میں اس دنیا میں ترتیب پائی جاتی ہے کہ ہر چیز با وجود ایک دوسرے سے بظاہر جدا اور لاتعلق نظر آنے کے دراصل اپنی گہرائیوں میں ایک دوسرے سے پیوست اور مربوط ہے اور ایک مخفی زنجیر بلکہ مختلف جہات سے کئی مخفی زنجیریں اس کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے منسلک کئے ہوئے ہیں اسی طرح قرآن کی گہرائیوں میں ربط و اتحاد کی کڑیاں چلتی ہیں اور ٹھیک جس طرح اس جسمانی عالم میں محققین اور سائنس دان اپنی اپنی اہلیت اور اپنی اپنی تحقیق کے مطابق علوم کے جواہر نکالتے رہتے ہیں اسی طرح قرآن کے روحانی عالم کے سمندر میں غوطہ لگانے والوں کے لئے بھی کسی زمانہ میں روحانی موتیوں کی کمی نہیں رہی اور نہ آئندہ ہوگی۔اور یہ بات قرآن کریم کے سب سے بڑے معجزوں میں سے بڑا معجزہ ہے کہ اس کے الفاظ اور اس کی ترتیب کو ایسے طور پر رکھا گیا ہے کہ وہ با وجود حجم میں ساری آسمانی کتابوں میں سے چھوٹا ہونے کے اپنے اندر روحانی علوم کا ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ رکھتا ہے جو حسب تحقیق محققین اور حسب ضرورت زمانہ ہمیشہ ظاہر ہوتے رہے ہیں اور ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں گے یا اور یہی وجہ ہے کہ اس کی ترتیب کو عام کتب کی طرح معین مضمون کے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے بابوں اور فصلوں اور پیروں وغیرہ کی صورت میں نہیں رکھا گیا کیونکہ اگر ایسا کیا جاتا تو اس کے معانی کی ساری وسعت کھوئی جاتی اور اس کا مفہوم ایک محدود اور معین صورت اختیار کر کے اپنی ظاہری اور بد یہی صورت میں بالکل مقید ہو جاتا۔خلاصہ کلام یہ کہ قرآن شریف اس بات کا مدعی ہے کہ اس کے اندر علوم کے بے انتہا خزانے مخفی ہیں جو ہمیشہ بقدر ضرورت ظاہر ہوتے رہیں گے اور اس کی تحقیق کا میدان کبھی ختم نہیں ہوگا اور قرآن کی یہ حیثیت اور اس کے نزول کی یہ غرض یقیناً فوت ہو جاتی اگر اس کی ترتیب کو عام کتب کی طرح بابوں اور فصلوں وغیرہ میں مضمون وار تقسیم کر کے ایک ٹھوس صورت میں جکڑ دیا جاتا۔پس جہاں یہ یا درکھنا چاہئے کہ قرآن ایک نہایت مرتب اور منظم کتاب ہے اور یہ بالکل غلط ہے کہ اس میں کوئی ترتیب نہیں ہے وہاں یہ بات بھی کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اس کی ترتیب عام کتب کی طرح نہیں ہے بلکہ اس جسمانی عالم کے اصول پر ہے جس میں معانی کی بے شمار گہرائیاں مخفی ہیں اور ان گہرائیوں میں ربط و اتحاد کی لا تعداد زنجیر میں ایک جال کے طور پر پھیلی ہوئی ہیں جن سے ہر شخص اور ہر زمانہ اپنی کوشش اور اپنی استعداد اور اپنی ضرورت اور اپنے حالات کے مطابق فائدہ اٹھاتا اور اٹھا سکتا ہے۔ہمارا یہ مختصر نوٹ اس جگہ بے شک ایک دعویٰ سے زیادہ حیثیت ا ازالہ اوہام صفحه ۳۰۵ تا ۳۱۷