سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 550 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 550

۵۵۰ آنے کا حکم جاوے۔اس طرح اپنے عقب کو پوری طرح محفوظ کر کے آپ نے لشکر اسلامی کی صف بندی کی اور مختلف دستوں کے جدا جدا امیر مقرر فرمائے۔اس موقع پر آپ کو یہ اطلاع دی گئی کہ لشکر قریش کا جھنڈ ا طلحہ کے ہاتھ میں ہے۔طلحہ اس خاندان سے تعلق رکھتا تھا جو قریش کے مورث اعلیٰ قصی بن کلاب کے قائم کردہ انتظام کے ماتحت جنگوں میں قریش کی علمبر داری کا حق رکھتا تھا۔یہ معلوم کر کے آپ نے فرمایا۔ہم قومی وفاداری دکھانے کے زیادہ حق دار ہیں چنانچہ آپ نے حضرت علی سے مہاجرین کا جھنڈا لے کر مصعب بن عمیر کے سپرد فرما دیا جو اسی خاندان کے ایک فرد تھے جس سے طلحہ تعلق رکھتا تھا ہے دوسری طرف قریش کے لشکر میں بھی صف آرائی ہو چکی تھی۔ابو سفیان امیر العسکر تھا۔میمنہ پر خالد بن ولید کمانڈر تھا۔رتھا۔اور میسرہ پر عکرمہ بن ابو جہل تھا۔تیر انداز عبداللہ بن ربیعہ کی کمان میں تھے۔کے عورتیں لشکر کے پیچھے دفیں بجا بجا کر اور اشعار گا گا کر مردوں کو جوش دلاتی تھیں ہے سب سے پہلے لشکر قریش سے ابو عامر اور اس کے ساتھی آگے بڑھے۔اس شخص کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ یہ قبیلہ اوس میں سے تھا اور مدینہ کا رہنے والا تھا اور راہب کے نام سے مشہور تھا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو اس کے کچھ عرصہ بعد یہ شخص بغض وحسد سے بھر گیا اور اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مکہ چلا گیا اور قریش مکہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف اکساتا رہا۔چنانچہ اب جنگ احد میں وہ قریش کا حمایتی بن کر مسلمانوں کے خلاف شریک جنگ ہوا اور یہ ایک عجیب بات ہے کہ ابو عامر کا بیٹا نظلہ ایک نہایت مخلص مسلمان تھا اور اس جنگ کے موقع پر اسلامی لشکر میں شامل تھا اور نہایت جانبازی کے ساتھ لڑتا ہوا شہید ہوا۔ابو عامر چونکہ قبیلہ اوس کے ذی اثر لوگوں میں سے تھا۔اس لئے اسے یہ پختہ امید تھی کہ اب جو میں اتنے عرصہ کی جدائی کے بعد مدینہ والوں کے سامنے ہوں گا تو وہ میری محبت میں فوراً محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر میرے ساتھ آملیں گے۔اسی امید میں ابو عامر اپنے ساتھیوں کو ہمراہ لے کر سب سے پہلے آگے بڑھا اور بلند آواز سے پکار کر کہنے لگا۔”اے قبیلہ اوس کے لوگو ! میں ابو عامر ہوں۔انصار نے یک زبان ہو کر کہا۔” دور ہو جا اے فاسق ! تیری آنکھ ٹھنڈی نہ ہو۔اور ساتھ ہی پتھروں کی ایک ایسی باڑ ماری کہ ابو عامر اور اس کے ساتھی بدحواس ہو کر پیچھے ،، بخاری کتاب الجہاد باب ما يكره من التنازع : ابن ہشام وابن سعد ۲، ۳: ابن سعد ۵: ابن ہشام