سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 543
۵۴۳ ایک مصیبت کا دھکہ۔قانون ورثہ۔حرمت شراب کفار کی غداری اور دو دردناک واقعات جنگ اُحد شوال ۳ ہجری مطابق مارچ ۶۲۴ ء جنگ بدر کے نتیجے میں جو ماتم عظیم مکہ میں بر پا ہوا تھا اس کا ذکر جنگ بدر کے حالات میں کیا جا چکا ہے۔سرداران قریش نے قسمیں کھائی تھیں کہ جب تک مقتولین بدر کا انتقام نہ لے لیں گے اس وقت تک چین نہ لیں گے۔ان کے اس جذبہ انتقام کو مدینہ کے بدعہد یہود کی خفیہ اشتعال انگیزیوں نے اور بھی زیادہ بھڑ کا دیا تھا۔چنانچہ بدر کے بعد قریش مکہ نے دوسرے قبائل کو مسلمانوں کے خلاف بہت سخت اکسانا شروع کر دیا اور خود بھی برابر اس تاک میں رہے کہ جب بھی موقع ملے مسلمانوں پر حملہ کر کے انہیں کچل ڈالیں۔بنو سلیم اور بنو غطفان کا مدینہ پر حملہ آور ہونے کی غرض سے بار بار جمع ہونا جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے زیادہ تر قریش مکہ ہی کی اشتعال انگیزیوں کا نتیجہ تھا۔غزوہ سویق بھی جس میں ابوسفیان نے مدینہ پر شب خون مارنے کی تجویز کی تھی اسی زنجیر کی ایک کڑی تھی اور چونکہ خدا کے فضل سے اس غزوہ میں قریش کو ذلت کا منہ دیکھنا پڑا تھا، اس لئے ان کا جوش انتقام اور بھی زیادہ ہو گیا تھا اور گو اس وقت انہوں نے عرب کے سامنے اپنی عزت رکھنے کے لئے یہ کہہ دیا تھا کہ ہماری قسم پوری ہو گئی ہے، لیکن ان کے دل اس بات کو محسوس کرتے تھے کہ غزوہ سویق نے ان کے ماتھے پر ذلت کا ایک اور دھبہ لگا دیا تھا۔لہذا اس کے بعد انہوں نے آگے سے بھی زیادہ جوش وخروش کے ساتھ جنگ کی تیاری شروع کی۔چنانچہ غزوہ اُحد جس کا ہم اب ذکر کر نے لگے ہیں اسی تیاری کا نتیجہ تھا۔جس تجارتی قافلہ کا ذکر جنگ بدر کے حالات میں گزر چکا ہے اس کے منافع کا روپیہ جس کی مالیت