سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 541 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 541

۵۴۱ تنگیوں کو خوشی کے ساتھ برداشت کیا اور اپنی زندگی کے امن اور قرار کو بربادکر کے ایک بالکل درویشانہ اور مسافرانہ زندگی اختیار کی۔آپ کے پیش کردہ مسئلہ تعد دازدواج میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ اس سے وہ علائق کمزور ہو جائیں جو دنیا میں انسان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ظاہر ہے کہ دنیا میں انسان کے بہت سے تعلقات ہیں جن کو اسے نبھانا پڑتا ہے۔مثلاً والدین ہیں ، بھائی بہن ہیں ، بیوی ہے، اولاد ہے، دوست ہیں، ہمسائے ہیں وغیر ذالک۔اور ان سارے علائق میں سے جذباتی رنگ میں سب سے زیادہ گرم جوشی اور حدت حس کا رشتہ بیوی کا رشتہ ہے۔مرد کی محبت اپنی بیوی سے بعض اوقات ایسی صورت اختیار کر لیتی ہے جسے عرف عام میں عشق کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور بعض اوقات جذبات کی تیزی اس عشق کو ایک گونہ جنون کی حد تک بھی پہنچا دیتی ہے اور پھر ایسی حالت میں انسان سوائے اس عشق کے مظاہرے میں زندگی گزارنے کے اور کسی کام کا نہیں رہتا۔حالانکہ یہ مسلم ہے کہ دنیا کی زندگی کے بہترین کام وہ ہیں جو انفرادی زندگی کے ساتھ نہیں بلکہ اجتماعی اور قومی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔پس چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انسان کے اندران فرائض کے پورا کرنے کے لئے بہترین قابلیت پیدا کرنا چاہتے تھے جو بنی نوع انسان کی اجتماعی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اس لئے آپ نے بعض حالات میں خاص شرائط کے ماتحت تعد دازدواج کی اجازت دے کر مرد اور عورت کے اس رشتے کو ایسی صورت دے دی ہے کہ اس کے اندر محویت کا عالم نہ پیدا ہو سکے۔اور اس اصل کے ماتحت آپ کا تعدد ازدواج پر عمل کرنا علائق خانگی کو کمزور کرنے کی غرض سے تھا نہ کہ انہیں مضبوط کرنے کے واسطے۔چنانچہ آپ کا وہ جواب جو آپ نے اپنی بیویوں کو ان کی طرف سے مال کا مطالبہ ہونے پر دیا اس پر شاہد ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ نہ صرف خود اپنی توجہ کو خدا کے لئے اور اپنے منصب رسالت کے لئے وقف رکھنا چاہتے تھے بلکہ اپنی بیویوں کے متعلق بھی آپ کے دل میں یہی خواہش تھی کہ ان کا آپ کے ساتھ تعلق محض خدا کے لئے اور آپ کے منصب رسالت کے لئے اور آخرت کے لئے ہو۔الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعد دازدواج دینی اور قومی اور ملکی مفاد کے ماتحت تھا اور ان حالات میں یقیناً یہ ایک شخصی مفاد کی بہت بڑی قربانی تھی جو آپ نے اختیار کی کیونکہ آپ نے اپنی خانگی زندگی میں ایک سخت درجہ تلخی اور تنگی پیدا کر کے اپنے ان فرائض کے انجام دینے کے لئے آسانی پیدا کی جو ایک شارع اور دینی مصلح اور لیڈر کی حیثیت میں آپ پر عائد ہوتے تھے اور اس لئے آپ کا یہ فعل ہر اس شخص کے شکریہ کا مستحق ہے جو جنگل کے وحشی جانوروں کی طرح صرف