سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 428 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 428

۴۲۸ میں روم اور فارس کی مملکتیں بر سر پریکار تھیں اور مکہ والوں کی ہمدردی طبعا اہل فارس کے ساتھ تھی جو انہی کی طرح مشرک تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں ہی تشریف رکھتے تھے کہ آپ نے خدا سے الہام پا کر یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ اس جنگ میں گو ابتداء روم کو نیچا دیکھنا پڑے گا لیکن بالآخر ا سے فارس پر فتح حاصل ہوگی اور تین سال سے لے کر نو سال کے عرصہ تک روم غالب آ جائے گا۔یہ پیشگوئی اس وقت کی گئی تھی جبکہ فارس کی افواج روم کو دباتی چلی جاتی تھیں اور بہت سے رومی علاقے فارس نے چھین لئے تھے اور بظاہر حالات روم کے لئے کوئی امید نظر نہیں آتی تھی۔اس حالت کو دیکھ کر کفار مکہ بہت خوش تھے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی فرمائی تو وہ کہتے تھے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ اب روم کو غلبہ حاصل ہو۔چنانچہ ان کی تحریک پر حضرت ابو بکر نے ان سے ایک شرط بھی باندھ لی۔مگر حضرت ابو بکر سے ی غلطی ہوئی کہ انہوں نے کفار مکہ کے کہنے میں آکر قرآن شریف کی بیان کردہ میعاد کو جو تین سال سے لے کر نو سال کے عرصہ پر مشتمل تھی صرف چھ سال میں محصور کر دیا اور اس طرح قریش کو ایک جھوٹی خوشی کا موقع مل گیا مگر بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلاح فرما دی کہ خدائی میعاد کوٹنگ کرنے کا کسی کوحق نہیں ہے پوری میعاد نو سال ہے اور اس وقت تک پیشگوئی کے پورا ہونے کا انتظار کرنا چاہئے۔چنانچہ ابھی نو سال نہیں گزرے تھے کہ جنگ نے یکلخت پلٹا کھایا اور روم نے فارس کو شکست پر شکست دے کر اپنا سارا علاقہ واپس چھین لیا اور جنگ کا اختتام روم کی فتح پر ہوا۔یہ ایام وہی تھے جبکہ صحابہ نے قریش مکہ کو بدر کے میدان میں شکست دی تھی۔گویا اس موقع پر مسلمانوں کے لئے دو خوشیاں جمع ہوگئیں اور قریش مکہ کے لئے دو ماتم کے بعض روایات میں یہ مروی ہوا ہے کہ یہ فتح روم کو صلح حدیبیہ کے زمانہ میں حاصل ہوئی تھی مگر یہ دونوں روایتیں متضاد نہیں ہیں کیونکہ دراصل روم کی فتح کا زمانہ جنگ بدر سے لے کر صلح حدیبیہ کے زمانہ تک پھیلا ہوا تھا۔اس وقت تک اسلام میں شرط باندھنا ممنوع نہیں تھا۔: قرآن شریف سورۃ روم اور ترمذی جلد۲ تفسیر سورۃ روم۔لائف آف محمد مصنفہ سرولیم میورصفحہ ۱۱۸۔۱۱۹ وانسائیکلوپیڈیا برٹینیہ کا حالات ہر قل۔