سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 427 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 427

۴۲۷ آپ کو خدا کی طرف سے نبی اور رسول بلکہ خاتم النبیین ہونے کا دعوی تھا۔لہذا ضروری ہے کہ آپ کی سیرت وسواخ کا منہاج نبوت کی روشنی میں مطالعہ کیا جاوے۔پس جس طرح ضرورت زمانہ کے ماتحت دوسرے انبیاء ومرسلین کو اللہ غیب کی باتوں پر آگاہ کرتا رہا ہے اور ان کے ذریعہ سے وقتاً فوقتاً خوارق ومعجزات ظاہر ہوتے رہے ہیں اسی طرح ضروری تھا کہ آپ کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ اپنے علم وقدرت کی مخفی طاقتوں کا اظہار کرے اور کوئی وجہ نہیں کہ اگر ہم دنیا کی دوسری باتوں کو معتبر لوگوں کی شہادت کی وجہ سے مانتے ہیں تو آیات و معجزات کو معتبر شہادت کے ہوتے ہوئے نہ مانیں۔البتہ جس طرح دوسری باتوں میں تحقیق کے بعد ایک بات کو مانا جاتا ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ آیات و معجزات کے متعلق پوری پوری تحقیق سے کام لیا جاوے اور صرف اسی بات کو مانا جاوے جو معتبر شہادت سے پایہ ثبوت کو پہنچی ہوئی ہو تا کہ غلط اور موضوع قصے صحیح تاریخ کا حصہ نہ قرار پا جائیں ، مگر یہ ایک نازک اور اہم مسئلہ ہے جس کے متعلق مفصل بحث انشاء اللہ کسی اور موقع پر آئے گی۔بدر کا اثر مشرکین مدینہ پر ابھی تک مدینہ میں قبائل اوس اور خزرج کے بہت سے لوگ شرک پر قائم تھے۔بدر کی فتح نے ان لوگوں میں ایک حرکت پیدا کر دی اور ان میں سے بہت سے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظیم الشان اور خارق عادت فتح کو دیکھ کر اسلام کی حقانیت کے قائل ہو گئے۔اور اس کے بعد مدینہ سے بت پرست عنصر بڑی سرعت کے ساتھ کم ہونا شروع ہو گیا مگر بعض ایسے بھی تھے جن کے دلوں میں اسلام کی اس فتح نے بغض و حسد کی چنگاری روشن کر دی اور انہوں نے بر ملا مخالفت کو خلاف مصلحت سمجھتے ہوئے بظاہر تو اسلام قبول کر لیا لیکن اندر ہی اندر اس کے استیصال کے در پے ہو کر منافقین کے گروہ میں شامل ہو گئے۔ان مؤخر الذکر لوگوں میں زیادہ ممتاز عبداللہ بن ابی ابن سلول تھا جو قبیلہ خزرج کا ایک نہایت نامور رئیس تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں تشریف لانے کے نتیجہ میں اپنی سرداری کے چھینے جانے کا صدمہ اٹھا چکا تھا۔یہ شخص بدر کے بعد بظاہر مسلمان ہو گیا لیکن اس کا دل اسلام کے خلاف بغض و عداوت سے لبریز تھا اور اہل نفاق کا سردار بن کر اس نے مخفی مخفی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ریشہ دوانی کا سلسلہ شروع کر دیا۔چنانچہ بعد کے واقعات سے پتہ لگے گا کہ کس طرح یہ شخص بعض اوقات اسلام کے لئے نہایت نازک حالت پیدا کر دینے کا باعث بنا۔رومی سلطنت کی فتح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کتاب کے حصہ اول میں بیان کیا گیا تھا کہ ان ایام