سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 390
۳۹۰ نہیں ملتا اور نہ ہی قرآن شریف نے اسے صراحتا بیان کیا ہے۔پس اس کے متعلق لازماً قیاس کرنا ہوگا اور خوش قسمتی سے یہ قیاس مشکل نہیں ہے کیونکہ تاریخ و قرآن شریف ہر دو میں قافلہ کے ساتھ ساتھ لشکر قریش کا ذکر بھی چلتا ہے اور اس سارے قصہ میں اگر کوئی ایسی بات نظر آتی ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں فکر پیدا کر سکتی تھی تو وہ لشکر قریش کی اطلاع ہے۔پس ماننا پڑے گا کہ مدینہ میں ہی لشکر قریش کی خبر بھی پہنچ گئی ہوگی۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ فکر دامن گیر ہوا ہوگا کہ اگر لشکر سے مقابلہ ہو گیا تو سخت مشکل کا سامنا ہوگا۔یہ وہ استدلال ہے جو اس آیت سے کیا گیا ہے اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ استدلال ایک عمدہ استدلال ہے جو اس آیت کی روشنی میں یہ واقعی مانا پڑتا ہے کہ قریش کی آمد آمد کی اطلاع مدینہ میں ہی پہنچے گئی ہوگی لیکن جو وسعت اس استدلال میں پیدا کر لی گئی ہے وہ ہرگز درست نہیں۔یعنی اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ مدینہ میں ہی سارے یا اکثر مسلمانوں کو یہ اطلاع پہنچ گئی تھی اور وہ سب کے سب یا ان میں سے اکثر اسی علم کے ماتحت مدینہ سے نکلے تھے۔یہ یقیناً غلط ہے کیونکہ علاوہ اس کے قرآن شریف کا بقیہ بیان اور کثیر التعداد تاریخی روایات اسے قطعی طور پر غلط ثابت کرتی ہیں۔خود آیت زیر بحث بھی اس وسعت کو قبول نہیں کرتی کیونکہ آیت میں یہ صاف طور پر موجود ہے کہ یہ احساس صرف بعض صحابہ کو تھا جیسا کہ فریقا کے لفظ سے پایا جاتا ہے۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے کے متعلق صرف بعض صحابہ فکر مند تھے سب یا اکثر صحابہ فکر مند نہ تھے۔پس ثابت ہوا کہ قرآن شریف کی رو سے مدینہ میں لشکر قریش کی خبر صرف بعض صحابہ کو پہنچی تھی اور اکثر اس سے بے خبر تھے اور یہ وہ صورت ہے جو قرآن شریف کے بقیہ بیان اور تاریخی روایات کے مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ بالکل قرین قیاس ہے کہ جب لشکر قریش کی خبر مدینہ میں پہنچی ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مصلحت سے اس کی اطلاع صرف بعض خاص خاص صحابہ کو دی ہو اور اکثر مسلمان اس سے بے خبر رہے ہوں اور وہ اسی بے خبری کی حالت میں صرف قافلہ کے خیال سے مدینہ سے نکلے ہوں اور پھر بدر کے پاس پہنچ کر قریش سے اچانک ان کا سامنا ہو گیا ہو۔اور یہی صورت درست معلوم ہوتی ہے، کیونکہ قرآن شریف کا بقیہ بیان اس کی تائید میں ہے اور تاریخ و حدیث میں بھی اس کے متعلق اشارات پائے جاتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ سے نکلنے سے قبل خاص طور پر صحابہ سے مشورہ کرنا اور اس مشورہ کو ایسے رنگ میں چلانا کہ انصار بھی آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہو جائیں تا کہ آپ کے ساتھ زیادہ جمعیت ہو۔حالانکہ انصار اس سے پہلے کسی مہم میں شامل نہیں ہوئے تھے۔صحیح مسلم حالات غزوہ : ابن سعد