سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 362 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 362

۳۶۲ - ۳۵ عہد و پیمان کے پورا کرنے کی نہایت سختی سے تاکید کی جاتی تھی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عہد کا اس قدر پاس تھا کہ جب حذیفہ بن یمان مکہ سے ہجرت کر کے بدر کے موقع پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ سے عرض کیا کہ میں جب مکہ سے نکلا تھا تو قریش نے یہ شبہ کر کے کہ شاید میں آپ کی مدد کے لئے جارہا ہوں مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میں آپ کی طرف سے نہ لڑوں گا۔تو آپ نے فرمایا تو پھر تم جاؤ اور اپنا عہد پورا کرو ہمیں خدا کی امداد بس ہے۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال احتیاط تھی۔حالانکہ فتویٰ کے طور پر ایسا عہد جو جبر کے طور پر حاصل کیا جاوے واجب الا یفا نہیں ) اور حضرت عمرؓ نے اپنے عہد خلافت میں تو یہاں تک اعلان کیا تھا کہ جو مسلمان دشمن کے ساتھ دھوکا یا بدعہدی کرے گا میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔- میدان جنگ میں جو مسلمان شہید ہوتے تھے انہیں غسل نہیں دیا جا تا تھا اور نہ ہی خاص طور پر کفنایا جاتا تھا۔۳۷۔مجبوری کے وقت ایک ہی قبر میں کئی کئی شہداء کو اکٹھا دفن کر دیا جاتا تھا اور ایسے موقعوں پر ان لوگوں کو قبر میں پہلے اتارا جاتا تھا جو قرآن شریف زیادہ جانتے تھے۔نیز شہداء کے متعلق حکم تھا -۳۸ - کہ انہیں میدان جنگ میں ہی دفنا دیا جاوے۔شہداء کا جنازہ بعض اوقات تو لڑائی کے فوراً بعد پڑھ دیا جاتا تھا اور بعض اوقات جب امن کی صورت نہ ہو تو بعد میں کسی اور موقع پر پڑھا دیا جاتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ حتی الوسع دشمن کے مقتولوں کو بھی اپنے انتظام میں دفن کروادیتے تھے۔اسلامی جنگوں میں لڑنے والے تنخواہ دار نہیں ہوتے تھے۔۴۱ مال غنیمت کی تقسیم کا یہ اصول تھا کہ سب سے پہلے امیر لشکر غنیمت کے مال میں سے کوئی ایک چیز اپنے لئے چن لیتا تھا جسے صفیہ کہتے تھے۔پھر سارے اموال کا پانچواں حصہ خدا اور اس کے رسول کے لئے الگ کر دیا جاتا تھا۔اور اس کے بعد بقیہ مال فوج میں بحصہ برابر تقسیم کر دیا جاتا تھا اس طرح پر کہ سوار کو پیدل کی نسبت دو حصے زیادہ دیا جاتا تھا اور نیز مقتول کا فر کا ذاتی سامان جو ل : سورۃ انفال : ۷۳ و بنی اسرائیل: ۳۵ و نیز بخاری ومسلم : مسلم موطا دارقطنی بحوالہ الروض الانف حالات غزوہ بدر