سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 321
۳۲۱ عقبہ اولیٰ سے بھی ایک سال قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی اور جن کے مکان پر اسلام کے ب سے پہلے مبلغ مصعب بن عمیر نے مدینہ میں قیام کیا تھا اور جو ہجرت سے قبل مدینہ میں نماز با جماعت اور جمعہ کا التزام کیا کرتے تھے۔نیز اسعدان بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے جو بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار میں مقرر فرمائے تھے۔چنانچہ ان کی وفات پر بنو نجار نے جن کے وہ نقیب تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ اسعد بن زرارہ کا کوئی قائم مقام مقرر فرمایا جاوے لیکن چونکہ اب اس کی ضرورت نہیں تھی آپ نے فرمایا اب میں خود تمہارا نقیب ہوں کسی اور نقیب کی ضرورت نہیں ہے دو معاندین اسلام کی ہلاکت اسی سال اسلام کے دو نہایت ذی اثر مخالفین کی موت بھی وقوع میں آئی ، چنانچہ ولید بن مغیرہ کی موت کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔اسی کے قریب مکہ میں عاص بن وائل کی موت واقع ہوئی ہے یہ دونوں شخص اسلام کے سخت مخالف تھے اور مکہ میں نہایت عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے مگر یہ ایک عجیب منظر ہے کہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ ان مرنے والوں کی اولا د آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو کر فدایان اسلام کی صف اول میں کھڑی نظر آتی ہے۔چنانچہ خالد بن ولید اور عمرو بن العاص کے کارنامے تاریخ اسلام میں کسی معترفی کے محتاج نہیں۔: طبری : طبری