سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 320 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 320

۳۲۰ تھے جو مخالفین کے ہاتھ میں مسلمانوں کے خلاف ایک نہایت کارگر ہتھیار کا کام دے سکتے تھے اور یہود کا وجود مزید براں خطرے کے احتمالات پیدا کر رہا تھا اور ان خطرات کے مقابلہ میں انصار کی جمعیت کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی تھی۔ان حالات میں گو مسلمانوں کو خدا کے وعدوں پر بھروسہ تھا لیکن اس ظاہری حالت کو دیکھ کر ان میں سے بہتوں کے دل اندر ہی اندر بیٹھے جاتے تھے اور خوف اور بے چینی کا ایسا غلبہ تھا کہ ان بے چاروں کو رات کے وقت نیند نہیں آتی تھی۔ناظرین کو چاہئے کہ ان باتوں کو اچھی طرح یا درکھیں کیونکہ آگے چل کر انہیں باتوں نے اس جنگ عظیم کی بنیاد بننا ہے جومسلمانوں اور کفار عرب کے درمیان وقوع میں آئی اور جس نے عرب کی وسیع سرزمین میں خون کی ندیاں بہا دیں۔ہجرت کے بعد مہاجرین کے ہاں جو پہلا بچہ مدینہ میں ہجرت کے بعد مہاجرین کا پہلا بچہ اور پیدا ہوا وہ عبداللہ بن زبیر تھے اور اسی لئے ان کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت پیدائش پر مہاجرین کو بہت خوشی ہوئی عبداللہ بن زبیر تاریخ اسلامی میں ایک بہت مشہور و معروف آدمی ہیں۔ان کے والد ز بیرا بن العوام کا حال کتاب کے حصہ اول میں گزر چکا ہے۔زبیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور کبار صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔حضرت ابو بکڑ نے اپنی لڑکی اسماء کو جو حضرت عائشہ کی بڑی بہن تھیں زبیر کے عقد میں دیا تھا اور انہی اسماء کے بطن سے ہجرت کے پہلے سال میں عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے۔جس وقت عبداللہ کو اٹھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا تو آپ نے ایک کھجور کو اپنے منہ میں نرم کر کے اس کا لعاب عبداللہ کے منہ میں ڈالا اور ان کے لئے دعائے خیر فرمائی اور یہی اس کی پہلی خوراک تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو عبداللہ بالکل بچہ تھے لیکن بعد میں بڑے ہوکر انہوں نے اپنے علم وفضل سے بڑارتبہ حاصل کیا۔شاہان بنوامیہ کے قابل اعتراض مسلک کو دیکھ کر انہوں نے اپنی علیحدہ حکومت قائم کر لی تھی لیکن بالآخر عبدالملک بن مروان کے عہد حکومت میں شہید ہوئے۔حضرت عائشہ انہیں اپنے بچے کے طور پر سمجھتی تھیں اور اسی لئے ان کی کنیت عبداللہ کے نام پر ام عبد اللہ مشہور ہوگئی تھی۔انصار کے دور ئیسوں کی وفات ہجرت کے پہلے سال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دو مخلص اصحاب کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا یعنی کلثوم بن الہدم جن کے مکان پر آپ قبا میں قیام فرما ہوئے تھے اور جو ایک معمر آدمی تھے فوت ہو گئے اور اسی زمانہ میں اسعد بن زرارة کا بھی انتقال ہوا۔اسعدان ابتدائی چھ اشخاص میں سے تھے جنہوں نے مکہ میں بیعت