سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 15
۱۵ ہے اور تبینوا کے لفظ میں درایت کا پہلو مد نظر ہے یعنی دوسری جہت سے بھی خبر کی اچھی طرح چھان بین کرلیا کرو۔پھر فرماتا ہے: إِنَّ الَّذِينَ جَاءَ وَ بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنْتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُونُ لَنَا أَنْ تَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَنَكَ هَذَا بُهْتَانُ عَظِيمُ د یعنی جو لوگ رسُولِ خُدا کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ کے خلاف بہتان لگانے میں شریک ہوئے ہیں وہ اے مسلمانو ! تمہیں میں سے ایک پارٹی ہیں مگر تمہیں چاہئے تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کے متعلق نیک گمان کرتے۔پس ایسا کیوں نہ ہوا کہ تم نے اس بہتان کو سنتے ہی یہ کہدیا کہ خدا تعالیٰ پاک و بے عیب ہے۔یہ تو ایک صاف بہتان نظر آتا ہے۔“ ان آیات میں صراحت کے ساتھ درایت کے اصول کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بلکہ صحابہ کو اس بات پر تو سیخ کی گئی ہے کہ خواہ حضرت عائشہ پر الزام لگانے والے بظاہر مسلمان ہی تھے، مگر جب تم حضرت عائشہ کے حالات سے اچھی طرح آگاہ تھے اور تم جانتے تھے کہ وہ خدائے پاک کے رسول کی بیوی اور دن رات آپ کی صحبت میں رہنے والی ہے تو تمہیں چاہئے تھا کہ ان ساری باتوں کو دیکھتے ہوئے اس خبر کو سنتے ہی بہتان اور افتراء قرار دے کر ٹھکرا دیتے۔گویا اس آیت میں ضمنا یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک روایت کے متعلق صرف یہ دیکھ کر کہ اس کے راوی بظاہر اچھے لوگ ہیں اسے نہیں مان لینا چاہئے بلکہ خدا داد عقل کے ماتحت دوسری باتیں بھی دیکھنی ضروری ہیں۔اور اگر دوسری با تیں روایت کومشتبہ قرار دیں تو اسے قبول نہیں کرنا چاہئے۔اسی قرآنی اصل کے ماتحت حدیث میں بھی یہ تاکید آتی ہے کہ محض کسی بات کو سُن کر اسے سچا نہیں سمجھ لینا چاہئے بلکہ ہر جہت سے تحقیق کر کے معلوم کرنا چاہئے کہ حقیقت کیا ہے؛ چنانچہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا اَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ * لے سورۃ نور آیت نمبر ۱۲ تا ۱۷ صحیح مسلم جلدا بابِ النَّهَى عَنِ الْحَدِيثِ