سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 238
۲۳۸ یورپ و امریکہ کے سارے نظام اور سارے تہذیب و تمدن کی بنیاد ظاہری فارم اور ضابطہ پر مبنی ہے اور یقینا جتنا ز ورمغربی ممالک میں ہر چیز کی فارم پر دیا جاتا ہے اتنا کسی اور جگہ نظر نہیں آتا۔مثلاً ایک ماتحت کے لیے افسر کا ادب لازمی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ حقیقت کے لحاظ سے ادب محض ایک قلبی کیفیت کا نام ہے لیکن کوئی مغربی حکومت اس بات پر تسلی نہیں پاتی کہ اس کے افراد صرف اپنے دل میں اپنے افسروں کا ادب محسوس کر لیا کریں اور بس بلکہ اس کے لیے یورپ و امریکہ کی ہر حکومت میں بے شمار ضوابط مقرر ہیں اور افسروں کے احترام کی غرض سے ماتحتوں کو سینکڑوں ظاہری پابندیوں میں جکڑ دیا گیا ہے کیونکہ دنیاوی معاملات میں ان لوگوں کے دل دُوسروں کی نسبت اس بات کو بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں کہ کسی جذبہ کی روح کو بغیر ظاہری فارم کے زندہ نہیں رکھا جاسکتا۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ دینی معاملات میں اس فطری قانون کو نظر انداز کیا جاوے۔الغرض جسم کو عبادت میں شامل کرنا نہ صرف اس لیے ضروری ہے کہ جسم بھی خدا کی مخلوق ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے خالق کی پرستش میں حصہ لے بلکہ اس لیے بھی کہ ظاہری اور جسمانی پابندی کے بغیر اندرونی روح کا بقا ممکن نہیں۔دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اسلام نے اپنی عبادات میں ظاہری شکل وصورت پر زیادہ زور دیا ہے اور عبادت کی روح کی طرف جو اصل چیز ہے پوری توجہ نہیں دی۔سو یہ اعتراض بھی بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کیونکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے گو اسلام نے جسم کو عبادت میں شامل کر کے ہر عبادت کے لیے ایک ظاہری صورت تجویز کی ہے لیکن چونکہ بہر حال روح جسم پر مقدم ہے اس لیے اسلام نے اصل زور عبادت کی روح پر دیا ہے۔بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس قدر زور عبادت کی روح پر اسلام میں پایا جاتا ہے وہ کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتا۔چنانچہ نماز جو اسلام میں ساری عبادتوں سے افضل قرار دی گئی ہے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَا تِهِمْ سَاهُونَ ) الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ فى وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُونَ ) یعنی ” تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنی نماز کی اصل حقیقت سے غافل ہیں۔وہ ایک ایسا کام کرتے ہیں جو لوگوں کو تو نظر آتا ہے مگر اس کے اندر کوئی روح نہیں ہے۔انہوں نے صرف برتن کو روک رکھا ہے اور اصل روح جس کے لیے یہ برتن مقرر ہے اُن کے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔“ : سورة ماعون : ۵ تا ۸