سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 205 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 205

۲۰۵ بے بسی کی شکایت تیرے ہی پاس کرتا ہوں۔اے میرے خدا تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے اور کمزوروں اور بیکسوں کا تو ہی نگہبان و محافظ ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے میں تیرے ہی مُنہ کی روشنی میں پناہ کا خواستگار ہوتا ہوں کیونکہ تو ہی ہے جو ظلمتوں کو دور کرتا اور انسان کو دنیا و آخرت کے حسنات کا وارث بناتا ہے۔“ عتبہ وشیبہ اس وقت اپنے اس باغ میں موجود تھے۔جب اُنہوں نے آپ کو اس حالت میں دیکھا تو دور ونزدیک کی رشتہ داری یا قومی احساس یا نہ معلوم کس خیال سے اپنے عیسائی غلام عداس نامی کے ہاتھ ایک کشتی میں کچھ انگور لگا کر آپ کے پاس بھجوائے۔آپ نے لے لیے اور عداس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اور کس مذہب کے پابند ؟“ اس نے کہا۔”میں نینوا کا ہوں اور مذہباً عیسائی ہوں۔آپ نے فرمایا: ” کیا وہی نینوا جو خدا کے صالح بندے یونس بن متی کا مسکن تھا۔عداس نے کہا۔ہاں۔مگر آپ کو یونس کا حال کیسے معلوم ہوا ؟ آپ نے فرمایا۔وہ میرا بھائی تھا کیونکہ وہ بھی اللہ کا نبی تھا اور میں بھی اللہ کا نبی ہوں۔پھر آپ نے اُسے اسلام کی تبلیغ فرمائی جس کا اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے آگے بڑھ کر جوش اخلاص میں آپ کے ہاتھ چوم لیے۔اس نظارہ کو دور سے کھڑے کھڑے عتبہ اور شیبہ نے بھی دیکھ لیا؟ چنانچہ جب عداس ان کے پاس واپس گیا۔تو انہوں نے کہا عد اس! یہ تجھے کیا ہوا تھا کہ اس شخص کے ہاتھ چومنے لگا۔یہ شخص تو تیرے دین کو خراب کر دے گا حالانکہ تیرا دین اس ،، کے دین سے بہتر ہے۔تھوڑی دیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باغ میں آرام فرمایا اور پھر وہاں سے روانہ ہوئے اور نخلہ میں پہنچے جو مکہ سے ایک منزل کے فاصلے پر واقع ہے اور وہاں کچھ دن قیام کیا۔اس کے بعد نخلہ سے روانہ ہو کر آپ کوہ حرا پر آئے۔اور چونکہ سفر طائف کی بظاہر نا کامی کی وجہ سے مکہ والوں کے زیادہ دلیر ہو جانے کا اندیشہ تھا اس لیے یہاں سے آپ نے کسی شخص کی زبانی مطعم بن عدی کو کہلا بھیجا کہ میں مکہ میں داخل ہونا چاہتا ہوں ، کیا تم مجھے اس کام میں مدد دے سکتے ہو؟ مطعم پکا کا فر تھا مگر طبیعت میں شرافت تھی اور ایسے حالات میں انکار کرنا شرفاء عرب کی فطرت کے خلاف تھا ، اس لیے اُس نے اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو ساتھ لیا اور سب مسلح ہو کر کعبہ کے پاس کھڑے ہو گئے اور آپ کو کہلا بھیجا کہ آ جائیں۔آپ آئے اور کعبہ کا طواف کیا اور وہاں سے مطلعم اور اس کی اولاد کے ساتھ تلواروں کے سایہ میں اپنے گھر میں ل : ابن ہشام وطبری