سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 189
۱۸۹ والے معاہدہ کو اب ختم کر دینا چاہئے۔یہ تجویز کر کے یہ لوگ دوسرے رؤساء قریش کی مجلس میں گئے اور ان میں سے ایک نے قریش سے مخاطب ہو کر کہا ”اے قریش کیا یہ مناسب ہے کہ تم تو مزے کے ساتھ زندگی بسر کرو اور تمہارے بھائی اس طرح مصیبت میں دن کا ئیں۔یہ معاہدہ ظالمانہ ہے اسے اب منسوخ کر دینا چاہیئے۔اس کے دوسرے ساتھیوں نے اس کی تائید کی۔لیکن ابو جہل بولا : ”ہر گز نہیں یہ معاہدہ قائم رہے گا اسے کوئی شخص ہاتھ نہیں لگا سکتا۔کسی نے جواب دیا۔”نہیں اب یہ قائم نہیں رہ سکتا۔جب یہ لکھا گیا تھا اس وقت بھی ہم راضی نہ تھے۔اسی حیل و حجت میں مطعم بن عدی نے ہاتھ بڑھا کر یہ بوسیدہ دستاویز چاک کر دی اور ابو جہل اور اس کے ساتھی دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔صحیفہ چاک کرنے کے بعد یہ لوگ ہتھیار لگا کر شعب ابی طالب کے دروازہ پر گئے اور تلواروں کے سایہ کے نیچے محصورین کو باہر نکال لائے۔یہ واقعہ بعثت نبوی کے دسویں سال کا ہے یا گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اڑھائی تین سال تک محصور رہے کیونکہ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے۔آپ بعثت کے ساتویں سال ماہ محرم میں محصور ہوئے تھے۔شق القمر کا معجزہ غالبا ابھی آپ شعب ابی طالب میں ہی تھے کہ شق القمر کا مشہور معجزہ ظاہر ہوا یعنی بعض کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ طلب کیا اور آپ نے انہیں چاند کے دوٹکڑے ہو جانے کا معجزہ دکھایا۔اس واقعہ کا قرآن شریف میں اس طرح ذکر آتا ہے: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا أَيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ وَكَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِنُّ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّنَ الْأَنْبَاءِ مَا فِيْهِ مُزْدَجَرَّه موعود گھڑی قریب آگئی ہے اور چاند پھٹ گیا۔اگر یہ لوگ کوئی نشان دیکھیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک جادو ہے اور ایسا جادو ہوتا ہی چلا آیا ہے۔انہوں نے ہمارے رسول کی تکذیب کی اور اپنی حرص و آز کے پیچھے پڑے رہے؛ حالانکہ ہر بات کا وقت مقرر ہوتا ہے۔بہر حال ہم نے انہیں ایک ایسی خبر پہنچادی ہے جس میں ان کے لیے ایک تنبیہ اور بیداری کا سامان موجود ہے۔اور حدیث میں اس معجزہ کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے: ا : ابن سعد ۲ : سورة قمر : ۲ تا ۵