سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 135 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 135

۱۳۵ اس کے بعد حضرت خدیجہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو شرک کا تارک ہو کر عیسائی مذہب کا پیر و ہو چکا تھا اور گذشتہ صحف انبیاء سے کسی قدر واقف تھا اور اب بوڑھا تھا حتی کہ اس کی آنکھوں کی بینائی تک بھی جا چکی تھی۔اس کے پاس آپ کو لے جا کر حضرت خدیجہ نے کہا۔”بھائی ذرا اپنے اس بھتیجے کی بات تو سن لو۔“ اُس نے کہا۔”ہاں کیا معاملہ ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب ماجرائنا دیا۔جب ورقہ ساری کیفیت سن چکا تو بولا۔یہ وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسی پر وحی لاتا تھا۔اے کاش ! مجھ میں طاقت ہوتی۔اے کاش ! میں اس وقت تک زندہ رہوں جب تیری قوم تجھے وطن سے نکال دے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حیران ہو کر پوچھا۔اَوَ مُخْرِجِيَّ هُمُ " کیا میری قوم مجھے نکال دے گی ؟ ورقہ نے کہا۔”ہاں کوئی رسول نہیں آیا کہ اس کے ساتھ اس کی قوم نے عداوت نہ کی ہو اور اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ تیری مدد کروں گا۔“ مگر ورقہ کو یہ دن دیکھنے نصیب نہ ہوئے کیونکہ تھوڑے عرصہ کے بعد ہی اس کا انتقال ہو گیا۔فترة وحى اس کے بعد وحی کا سلسلہ رک گیا یے اور ایک عرصہ تک جس کا اندازہ ابن عباس کی ایک روایت کے مطابق چالیس یوم بیان ہوا ہے۔یہ سلسلہ رکا رہا۔اس زمانہ کو فترة کا زمانہ کہتے ہیں۔گویا آفتاب رسالت کی روشنی ایک دفعہ نظر آئی اور پھر غائب ہوگئی۔آپ کے لب ہائے تشنہ پر بارش کا ایک چھینا پڑا اور پھر بادل پھٹ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ایام سخت گھبراہٹ اور بے چینی کی حالت میں گزارے۔دن رات اُٹھتے بیٹھتے یہی خیال تھا کہ خدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کیا ہونے والا ہے اور اس غیر مانوس غیبی رسول کا آنا کیا معنے رکھتا ہے اور کیا یہ پیام وسلام خدا کی طرف سے ہے یا میرے اپنے نفس کا ہی کوئی مخفی پر تو ہے ؟ ان سوالات نے آپ کو سخت بے چین کر رکھا تھا حتی کہ حدیث میں آتا ہے کہ ان ایام میں آپ کو اتنی گھبراہٹ تھی کہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اور ارادہ کیا کہ وہاں سے اپنے آپ کو گرا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیں مگر ہر ایسے موقع پر الہی فرشتہ آواز دیتا۔دیکھو محمد ایسا نہ کرو تم واقعی اللہ کے رسول ہو۔“ یہ آواز سُن کر آپ رُک جاتے مگر پھر بے چینی اور اضطراب کی حالت پیدا ہوتی تو بے اختیار ہو کر پھر اپنے آپ کو ہلاک کر دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہے دو ل : بخاری باب بدء الوحی۔۲: بخاری باب مذکور ه : بخاری باب بدء الوحی زرقانی جلدا باب مراتب الوحی