سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 126
۱۲۶ علی بن ابی طالب کا آنحضرت کے گھر آنا ابوطالب ایک بہت باعزت آدمی تھے مگر غریب تھے اور بڑی تنگی سے اُن کا گزارہ چلتا تھا۔خصوصاً ان ایام میں جب کہ ملکہ میں ایک قحط کی صورت تھی اُن کے دن بہت ہی تکلیف میں کٹتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے چا کی اس تکلیف کو دیکھا تو اپنے دوسرے چچا عباس سے ایک دن فرمانے گے چا! آپ کے بھائی ابوطالب کی معیشت تنگ ہے۔کیا اچھا ہو کہ اُن کے بیٹوں میں سے ایک کو آپ اپنے گھر لے جائیں اور ایک کو میں لے آؤں۔عباس نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور پھر دونوں مل کر ابوطالب کے پاس گئے اور ان کے سامنے یہ درخواست پیش کی۔اُن کو اپنی اولاد میں عقیل سے بہت محبت تھی۔کہنے لگے عقیل کو میرے پاس رہنے دو اور باقیوں کو اگر تمہاری خواہش ہے تو لے جاؤ؛ چنانچہ جعفر کو عباس اپنے گھر لے آئے اور علی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاس لے آئے۔حضرت علیؓ کی عمر اس وقت قریباً چھ سات سال کی تھی۔اس کے بعد علی" ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے یا صبح کی سفیدی اب آپ کی عمر چالیس سال کے قریب پہنچ گئی تھی اور وقت آ گیا تھا کہ صبح کی سفیدی افق مشرق میں نمودار ہو۔یوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مکہ کی عام سوسائٹی میں زیادہ خلاملا نہیں کیا مگر ان ایام میں خصوصاً آپ کی طبیعت کا یہ حال تھا کہ دن رات اللہ تعالیٰ کی طلب اور اُس کی یاد میں مشغول رہتے تھے۔مکہ کے پاس شہر سے تین میل کے فاصلہ پر منٹی کی طرف جاتے ہوئے بائیں جانب کوہ حرا میں ایک غار ہے جس کو غار حراء کہتے ہیں۔ان ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عام دستور تھا کہ وہاں جاتے اور غور وفکر اور یاد خدا میں مشغول رہتے۔عام طور پر کئی کئی دن کا کھانا ساتھ لے جاتے اور شہر میں نہ آتے۔بعض اوقات حضرت خدیجہ بھی ساتھ جاتی تھیں۔یہی وہ زمانہ ہے جسے قرآن شریف میں تلاش حق کا زمانہ کہا گیا ہے؛ چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَى و یعنی اللہ نے تجھے اپنی تلاش میں سرگردان و حیران پایا۔پس اُس نے تجھ کو اپنی طرف آنے کا راستہ بتا دیا۔“ اس زمانہ میں رویا صالحہ کا آغاز ہوا جس کا عرصہ چھ ماہ کا بیان ہوا ہے کے گویا نبوت کی ابتدائی سیڑھی ل : ابن ہشام واسد الغابہ : بیہقی بحوالہ زرقانی باب مبعث النبی : سورۃ صحی : ۸