سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 921
۹۲۱ بعینہ وہی الفاظ ہیں جو ہم نے اسلامی کتب کے حوالہ سے اوپر درج کئے ہیں۔یہ خط ۱۸۵۸ء میں بعض فرانسیسی سیاحوں کو مصر کی ایک خانقاہ میں ملا اور اب اصل خط قسطنطنیہ میں موجود ہے۔اور اس کا فوٹو بھی شائع ہو چکا ہے۔اس خط کا دریافت کرنے والا مسیو استین بر تیمی تھا اور غالبا سب سے پہلے اس کا فوٹو مصر کے مشہور جریدہ الہلال بابت نومبر ۱۹۰۴ء میں شائع ہوا تھا اور پھر پروفیسر مارگولیتھ نے بھی اپنی کتاب محمد اینڈ دی رائز آف اسلام میں اسے شائع کیا۔اسی طرح وہ مصر کی ایک جدید تصنیف تاریخ الاسلام ایساسی مصنفہ الدكتور حسن بن ابراہیم استاذ التاریخ الاسلامی جامعہ مصریہ " میں بھی چھپ چکا ہے اور بہت سے غیر مسلم محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ وہی اصل خط ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقوقس مصر کو لکھا تھا۔ضمناً اس خط کی دریافت جس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف حدیث اور تاریخ اسلامی کی روایت کے عین مطابق ہے اس بات کا بھاری ثبوت مہیا کرتی ہے کہ معتبر جامعین حدیث اور محقق مؤرخین اسلام نے روایات کے جمع کرنے میں کتنی بھاری احتیاط اور کتنی عظیم الشان امانت و دیانت سے کام لیا ہے۔انہوں نے زبانی حافظہ کی بنا پر روایوں کے ایک لمبے سلسلہ کے ساتھ اس خط کی عبارت بیان کی اور بتایا کہ فلاں موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ان الفاظ کی تحریر مقوقس کو لکھی تھی اور پھر تیرہ سوسال کے طویل زمانہ کے بعد اصل خط کے دریافت ہونے پر یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہوگئی کہ جو روایت ان مسلمان محد ثین اور مؤرخین نے بیان کی تھی وہ حرف بحرف درست تھی۔اس سے بڑھ کر اسلامی روایات کی صحت اور محدثین کی دیانت وامانت کا کیا ثبوت ہوگا ؟ میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سب راوی ہر لحاظ سے قابل اعتماد ہیں کیونکہ یقیناً ان میں حافظہ یا سمجھ یا دیانت کے لحاظ سے بعض کمزور راوی بھی پائے جاتے تھے لیکن جو اچھے تھے ان کا تاریخ عالم میں جواب نہیں۔( نوٹ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا عکس اگلے صفحہ پر ملاحظہ کریں۔) ل ریویو آف ریچز قادیان بابت ماہ اگست ۱۹۰۶ : صفحه ۳۶۴ : صفحہ ۱۹۸