سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 912
۹۱۲ تھا اور یہی اس کی رعایا کا مذہب تھا جو اپنے بادشاہ کو بھی قابل پرستش خیال کرتی تھی۔فارس کے کسری ایک طرح سے عرب کے ملک پر بھی گویا اپنا سیاسی حق جماتے تھے۔کیونکہ عرب کے علاقہ بحرین اور علاقہ یمن کے رئیس دونوں کسری کے ماتحت تھے اور کسریٰ کی طرف سے ان علاقوں کے والی یعنی گورنر سمجھے جاتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ کی طرف تبلیغی خط لکھنے کا ارادہ ظاہر فرمایا تو در باری آداب کے پیش نظر اپنا خط پہلے رئیس بحرین کی طرف بھیجا اور اس سے درخواست کی کہ وہ یہ خط آگے کسری کے نام بھجوادے۔اسی طرح جیسا کہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے جب خسرو پرویز نے غصہ میں آکر نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے احکام صادر کئے تو ان احکام کے اجراء کے لئے اس نے اپنے یمن کے گورنر کو ہدایت بھجوائی۔بہر حال بحرین اور یمن پر اقتدار حاصل ہونے کی وجہ سے کسری کو عرب کے معاملات میں کافی دلچسپی تھی اور وہ عرب کی ہر نئی تحریک کو طبعا شک کی نظر سے دیکھتا تھا۔عرب کے معاملات میں کسری کی دلچسپی کا دوسرا بڑا باعث عرب کے یہودی قبیلے تھے جو مدینہ اور خیبر اور وادی القریٰ وغیرہ میں کثرت سے آباد تھے۔یہ یہودی قبیلے طبعاً اور روایتاً قیصر کی عیسائی حکومت کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے بلکہ حق یہ ہے کہ وہ عیسائیوں کے سخت خلاف تھے اور دوسری طرف قیصر کی حکومت یہودیوں کے متعلق معاندانہ رویہ رکھتی تھی اور ہر قل نے تو خصوصیت سے ان کے خلاف تشدد کا دروازہ کھول رکھا تھا۔اندریں حالات عرب کے ماحول میں صرف فارس کی حکومت ہی ایسی تھی جس کے ساتھ عرب کے یہودی تعلقات رکھ سکتے تھے۔یہ تعلقات یزدجر و اول کے عہد میں شروع ہوئے جس کی ایک بیوی یہودی نسل کی تھی اور پھر خسرو پرویز کے زمانہ میں اپنے کمال کو پہنچ گئے جبکہ یہودیوں اور ایرانی حکومت کے درمیان گہرے تعلقات پیدا ہو چکے تھے۔تعرب کے یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کثرت کے ساتھ کسری کے دربار میں جاتے رہتے تھے اور جہاں تک ان کا بس چلتا تھا خسرو پرویز کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اکساتے تھے۔اس حقیقت کوسر ولیم میور نے بھی اشارہ تسلیم کیا ہے۔" میدوہ زمانہ تھا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ کے نام تبلیغی خط روانہ کیا۔یہ خط آپ نے اپنے ا بخاری کتاب العلم و کتاب الجہاد ملاحظہ ہو ہسٹوریز ہسٹری آف دی ورلڈ جلدے صفحہ ۱۷۵۔نیز دیکھو ہسٹری آف دی نیشنز، مصنفہ بچن سنز صفحه ۵۵۰ جیوالیش انسائیکلو پیڈیا جلد ۹ صفحه ۴۴۸ زیر عنوان پرشیا : لائف آف محمد صفحه ۳۷۱