سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 76
۷۶ ہاجرہ ہی کی مقدس یاد گار ہے۔ان واقعات کی ایک اجمالی اور کسی قدر محرف و مبدل نقشہ بائیبل میں بھی مذکور ہے۔حضرت ہاجرہ کی مقدس یاد گار کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا پاس تھا کہ ایک دوسری روایت سے پتہ لگتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ جب خُدا تمہارے ہاتھ پر مصر کا ملک فتح کرائے تو اہلِ مصر سے نیکی اور احسان کا سلوک کرنا کیونکہ بوجہ ہماری ماں ھاجرہ کے ( جو مصری تھیں ) تم پر اہلِ مصر کا خاص حق ہے۔بہر حال حضرت ابراہیم کے حضرت ہاجرہ اور اسمعیل کو مکہ کی ویران آبادی میں آبادکر کے واپس چلے جانے پر ایک غیبی چشمہ کا وجود ظہور میں آیا اور اس کے بعد اس چشمہ کی وجہ سے جو اسلامی تاریخ میں چاہ زمزم کے نام سے مشہور ہے وادی بلکہ میں اور لوگ بھی آباد ہونے لگے اور مکہ کی آبادی شروع ہوئی۔لکھا ہے کہ اس جگہ سب سے پہلے آباد ہونے والا قبیلہ جرھم تھا جو بنو قحطان کی ایک شاخ تھا۔یہ قبیلہ یمن سے آیا تھا اور پہلے وادی بکہ سے کچھ فاصلے پر آباد تھا۔لیکن جب اُن کو زمزم کے وجود سے اطلاع ہوئی تو ان کے رئیس مضاض بن عمر و جرہمی نے حضرت ہاجرہ سے چشمہ کے پاس ڈیرہ لگانے کی اجازت چاہی۔حضرت ہاجرہ نے بخوشی اجازت دے دی اور اس طرح قبیلہ جرہم کے لوگ وادی بکہ میں آباد ہو گئے۔اسمعیل ذبیح اللہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل کو وادی بلکہ میں آباد کرنے کے بعد حضرت ابراہیم گا ہے گا ہے ملکہ آیا کرتے تھے اور پھر واپس چلے جاتے تھے۔جب حضرت اسمعیل کی عمر کچھ بڑی ہوئی یعنی بعض روایات کی رُو سے وہ تیرہ سال کے ہو گئے تو حضرت ابرا ہیم“ نے ایک خواب دیکھا کہ وہ حضرت اسمعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔چونکہ ابھی تک حضرت ابرا ہیم" پر یہ تعلیم نازل نہیں ہوئی تھی کہ انسانی قربانی ظاہری صورت میں جائز نہیں ہے اور ملک میں انسانی قربانی کا دستور تھا، اس لیے حضرت ابراہیم نے اپنی اس خواب کو ظاہر میں پورا کرنا چاہا اور حضرت اسمعیل سے اس کا ذکر کیا۔اسمعیل نے کہا کہ آپ بے شک اپنی خواب کو پورا کریں، میں خدا کے حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہوں۔چنانچہ حضرت ابراہیم حضرت اسمعیل کو باہر لے گئے۔اور اسمعیل کو زمین پر لٹا کر ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔اور وفادار بیٹے نے خاموشی اور خوشی کے ساتھ اپنی گردن باپ کے سامنے رکھ دی۔قریب تھا کہ بخاری کتاب بدء الخلق وسيرة ابن ہشام پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۴ تا ۲۱ مسلم جلد ۲ باب و صیۃ النبی صلعم بابل مصر