سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 75 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 75

۷۵ یعنی جب حضرت ابراہیم " ہاجرہ اور اسمعیل کو وادی مکہ میں چھوڑ کر واپس جانے لگے تو انہوں نے تھوڑی دُور جا کر پیچھے نظر ڈالی اور خدا کے حضور یوں دُعا کی کہ: ”اے ہمارے رب ! میں نے اپنی نسل کے ایک حصے کو اس غیر آباد نجر وادی میں تیرے عزت والے گھر کے پاس بسایا ہے۔اے ہمارے رب ! میں نے یہ کام اس لئے کیا ہے کہ تا وہ تیری عبادت کو قائم کریں اور تیرے لیے ان کی زندگی وقف ہو۔پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے اور ان کو اچھے اچھے ثمرات کا رزق عطا کرتا کہ وہ تیرے شکر گذار ہوں۔“ عام مؤرخین بیان کرتے ہیں اور حدیث میں بھی ذکر آتا ہے کہ جب حضرت ہاجرہ کا زاد ختم ہو گیا تو لوازمات بشری کے تحت ان کو اپنے بیٹے کے متعلق سخت فکر پیدا ہوا اور وہ ادھر اُدھر پانی کی تلاش میں پھریں ، مگر پانی کی ایک بوند تک نہ ملی اور بچے کی حالت پیاس سے جلد جلد ابتر ہوئی گئی۔آخر ہاجرہ سے اسمعیل کی حالت زار دیکھی نہ گئی ، اس لیے وہ وہاں سے اُٹھیں تاکہ اپنے بچے کی پیاس کی موت کو نہ دیکھیں اور آسمان کی طرف منہ کر کے روئیں اور پانی کی تلاش میں پھر ادھر اُدھر بھا گئیں اور اردگرد کے علاقہ پر اچھی طرح نظر ڈالنے کی غرض سے صفا کی پہاڑی پر چڑھ گئیں لیکن وہاں سے بھی جب کوئی چیز نظر نہ آئی تو بھاگتی ہوئی مروہ کی پہاڑی پر آئیں۔وہاں سے پھر دوڑتی ہوئی صفا کی طرف گئیں اور اس طرح اُنہوں نے ایک نہایت گھبراہٹ اور بیتابی کی حالت میں ان پہاڑیوں پر سات چکر لگائے اور ساتھ ساتھ زار زار روتی بھی جاتی تھیں اور اللہ سے دُعا بھی کرتی جاتی تھیں۔مگر نہ تو کوئی پانی کا پتہ ملتا تھا اور نہ ہی کوئی آدمی نظر آتا تھا۔آخر جب ہاجرہ کا کرب انتہا کو پہنچ گیا تو ساتویں چکر کے بعد ہاجرہ کو ایک غیبی آواز سنائی دی کہ اے ہاجرہ اللہ نے تیری اور تیرے بچے کی آواز سُن لی ہے۔یہ آوازسُن کر وہ واپس آئیں تو جس جگہ بچہ شدت پیاس کی وجہ سے بے تابی کی حالت میں تڑپ رہا تھا وہاں ایک خدائی فرشتہ کو کھڑا پایا جو اپنے پاؤں کی ایڑی اس طرح زمین پر ماررہا تھا کہ گویا کوئی چیز کھود کر نکال رہا ہے۔حضرت ہاجرہ آگے بڑھیں تو جس جگہ وہ ایڈی مار رہا تھا وہاں اُنہوں نے ایک چشمہ پایا جس میں سے پانی پھوٹ پھوٹ کر بہہ رہا تھا۔ہاجرہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔اُس نے فوراً اپنے بچے کو پانی دیا اور اس خوف سے کہ پانی ضائع نہ ہو جاوے اس کے گرد پتھر رکھ دیئے اور اسے ایک حوض کی صورت میں بنا دیا۔حضرت ابنِ عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ خدا ہاجرہ پر رحم کرے۔اگر وہ اس پانی کو نہ روکتی تو وہ ایک بہنے والا چشمہ ہو جاتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ حج میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا