سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 842 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 842

۸۴۲ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب اور سفر حدیبیہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائے تو اس کے جلد بعد ہی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس کی طرف سے بدل کر بیت اللہ کی طرف پھیر دیا تھا اور اس تحویل قبلہ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ اپنی توجہ کو مکہ کی طرف لگائے رکھیں اور اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ مکہ اسلام کا مذہبی مرکز ہے جو جتنی جلدی بھی ممکن ہو مسلمانوں کے قبضہ میں آ جانا چاہئے۔ان احکام کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ مکہ کی طرف خیال لگارہتا تھا اور پھر وطن ہونے کی وجہ سے بھی آپ کو اور آپ کے ساتھ کے مہاجرین کو مکہ کے ساتھ طبعا خاص محبت تھی۔اس پر اتفاق یہ ہوا کہ انہی دنوں میں جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خواب دیکھی کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔تے اس وقت ذوقعدہ کا مہینہ قریب تھا جو زمانہ جاہلیت میں بھی ان چار مبارک مہینوں میں سے سمجھا جاتا تھا جن میں ہر قسم کا جنگ وجدال منع تھا۔گویا ایک طرف آپ نے یہ خواب دیکھی اور دوسری طرف یہ وقت بھی ایسا تھا کہ جب عرب کے طول و عرض میں جنگ کا سلسلہ رک کر امن وامان ہو جاتا تھا اور گو یہ حج کے دن نہیں تھے اور ابھی تک اسلام میں حج با قاعدہ طور پر مقرر بھی نہیں ہوا تھا لیکن خانہ کعبہ کا طواف ہر وقت ہو سکتا تھا اس لئے آپ نے اس خواب دیکھنے کے بعد اپنے صحابہ سے تحریک فرمائی کہ وہ عمرہ کے واسطے تیاری کرلیں۔عمرہ گویا ایک چھوٹی قسم کا حج تھا جس میں حج کے بعض مناسک کو ترک کر کے صرف بیت اللہ کے طواف اور قربانی پر اکتفا کی جاتی تھی اور بخلاف حج کے اس کے لئے سال کا کوئی خاص حصہ بھی معین نہیں تھا بلکہ یہ عبادت ہر موسم میں ادا کی جاسکتی تھی۔اس موقع پر آپ نے صحابہ میں یہ بھی اعلان فرمایا کہ چونکہ اس سفر میں کسی قسم کا جنگی مقابلہ مقصود نہیں ہے بلکہ محض ایک پر امن دینی عبادت کا بجالانا مقصود ہے اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس سفر میں اپنے ہتھیار ساتھ نہ لیں البتہ عرب کے دستور کے مطابق صرف اپنی تلواروں کو نیاموں کے اندر بند کر کے مسافرانہ طریق پر اپنے ساتھ رکھا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی آپ نے مدینہ کے گردونواح کے بدوی لوگوں میں بھی جو بظاہر مسلمانوں کے ساتھ تھے یہ تحریک فرمائی کہ وہ بھی ہمارے ساتھ شریک ہو کر عمرہ کی عبادت بجالائیں مگر افسوس ہے کہ ایک ا: سورة البقرة : ۱۴۹ تا ۱۵۱ : سورة الفتح : ۲۸ و ابن جریر جلد ۲۶ صفحه ۶۸ وزرقانی جلد ۲ صفحه ۱۷۹ و تاریخ خمیس حالات حدیبیہ