سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 815 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 815

۸۱۵ سے کسی کی آواز میرے کان میں آئی کہ ابورافع تاجر حجاز وفات پا گیا ہے۔اس کے بعد میں اٹھا اور آہستہ آہستہ اپنے ساتھیوں میں آملا اور پھر ہم نے مدینہ میں آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو رافع کے قتل کی اطلاع دی۔آپ نے سارا واقعہ سن کر مجھے ارشاد فرمایا کہ اپنا پاؤں آگے کرو۔میں نے پاؤں آگے کیا تو آپ نے دعا مانگتے ہوئے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا جس کے بعد میں نے یوں محسوس کیا کہ گویا مجھے کوئی 166 تکلیف پہنچی ہی نہیں تھی۔ایک دوسری روایت میں ذکر آتا ہے کہ جب عبد اللہ بن عتیک نے ابورافع پر حملہ کیا تو اس کی بیوی نے نہایت زور سے چلانا شروع کیا جس پر مجھے فکر ہوا کہ اس کی چیخ و پکارسن کر کہیں دوسرے لوگ نہ ہوشیار ہو جائیں اس پر میں نے اس کی بیوی پر تلوار اٹھائی مگر پھر یہ یاد کر کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے میں اس ارادہ سے باز آ گیا۔ابورافع کے قتل کے جواز کے متعلق ہمیں اس جگہ کسی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ابورافع کی خون آشام کا رروائیاں تاریخ کا ایک کھلا ہوا ورق ہیں اور اس سے ایک ملتے جلتے واقعہ میں ایک مفصل بحث کتاب کے حصہ دوم میں سے کعب بن اشرف کے قتل کے بیان میں گزر چکی ہے جس کے اعادہ کی اس جگہ ضرورت نہیں اصولاً اس قدر یا درکھنا چاہئے کہ : -1 -۲ اس وقت مسلمان نہایت کمزوری کی حالت میں چاروں طرف سے مصیبت میں مبتلا تھے اور ہر طرف مخالفت کی آگ شعلہ زن تھی۔اور گویا سارا ملک مسلمانوں کو مٹانے کے لئے متحد ہو رہا تھا۔ایسے نازک وقت میں ابورافع اس آگ پر تیل ڈال رہا تھا جو مسلمانوں کے خلاف مشتعل تھی اور اپنے اثر اور رسوخ اور دولت سے عرب کے مختلف قبائل کو اسلام کے خلاف ابھار رہا تھا اور اس بات کی تیاری کر رہا تھا کہ غزوہ احزاب کی طرح عرب کے وحشی قبائل پھر متحد ہو کر مدینہ پر دھاوا بول دیں۔عرب میں اس وقت کوئی حکومت نہیں تھی کہ جس کے ذریعہ دادرسی چاہی جاتی بلکہ ہر قبیلہ اپنی جگہ آزادا اور مختار تھا۔پس سوائے اس کے کہ اپنی حفاظت کے لئے خود کوئی تدبیر کی جاتی اور کوئی صورت نہیں تھی۔بخاری کتاب المغازی حالات قتل ابورافع ملاحظہ ہو حصہ دوم : مؤطا امام مالک کتاب الجہاد