سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 808 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 808

۸۰۸ کھڑی ہوگئی اور ہم نے انہیں قید کر لیا۔ان قیدیوں میں ایک عمر رسیدہ عورت بھی تھی جس نے اپنے اوپر سرخ چھڑے کی چادر اوڑھ رکھی تھی اور اس کی ایک خوبصورت لڑکی بھی اس کے ساتھ تھی۔میں ان سب کو گھیر کر حضرت ابوبکر کے پاس لے آیا اور آپ نے یہ لڑکی میری نگرانی میں دے دی۔پھر جب ہم مدینہ میں آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ لڑکی لے لی اور اسے مکہ بھجوا کر اس کے عوض میں بعض ان مسلمان قیدیوں کی رہائی حاصل کی جو اہل مکہ کے پاس محبوس تھے۔اُم قرفہ کے قتل کا غلط واقعہ سریہ حضرت ابو بکر کی جگہ جس کا ذکراو پر گذر چکا ہے ابن سعد نے ایک ایسے سریہ کا ذکر کیا ہے جس میں زید بن حارثہ امیر تھے۔یعنی ابن سعد اس سریہ میں حضرت ابوبکر کی بجائے زید بن حارثہ کو امیر بیان کرتا ہے اور تفاصیل میں بھی کسی قدر اختلاف کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ ہم بن فزارہ کی گوشمالی کے لیے تھی جو وادی قری کے پاس آباد تھے اور جنہوں نے مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلہ پر چھاپہ مار کر اس کا سارا مال و اسباب چھین لیا تھا۔اس مفسد گروہ کی روح رواں ایک بوڑھی عورت تھی جس کا نام اُم قرضہ تھا جو اسلام کی سخت دشمن تھی۔جب یہ عورت اس لڑائی میں پکڑی گئی تو زید کی پارٹی کے ایک شخص قیس نامی نے اس عورت کو قتل کر دیا۔اور ابن سعد اس قتل کا قصہ یوں بیان کرتا ہے کہ اس کے دونوں پاؤں دو مختلف اونٹوں کے ساتھ باندھے گئے تھے اور پھر ان اونٹوں کو مختلف جہات میں ہنکایا گیا جس کے نتیجہ میں یہ عورت درمیان میں سے چر کر دو ٹکرے ہوگئی اور اس کے بعد اس عورت کی لڑکی سلمہ بن اکوع کے سپر د کر دی گئی۔۔یہی قصہ کسی قدر اختصار اور اجمال اور اختلاف کے ساتھ ابن اسحاق نے بھی بیان کیا ہے۔اس روایت کی بنا پر سر ولیم میور نے جو دوسرے یورپین مؤرخین کی نسبت زیادہ تفصیل دینے کا عادی ہے اس واقعہ کو مسلمانوں کی وحشیانہ روح کی مثال میں بڑے شوق سے اپنی کتاب کی زینت بنایا ہے بلکہ سرولیم نے اسے اپنی کتاب میں درج کرنے کی وجہ ہی یہی لکھی ہے کہ اس مہم میں مسلمان ایک ظالمانہ فعل کے مرتکب ہوئے تھے۔چنانچہ میور صاحب لکھتے ہیں: اس سال مسلمانوں کو بہت سی مہموں میں مدینہ سے نکلنا پڑا مگر یہ سب قابل ذکر نہیں ہیں البتہ میں ان میں سے ایک مہم کے ذکر سے رک نہیں سکتا کیونکہ اس کا انجام مسلمانوں کی طرف صحیح مسلم کتاب الجہاد باب التنفيل و سفن ابوداؤ د بروایت زرقانی حالات سریہ زید الی أم قرفه : ابن سعد جلد ۲ صفحه ۶۵ ۳ : ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۸۳