سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 797
292 انتہا پر واقع ہے اور اشتراکیت دوسری انتہا پر مگر بہر حال اشتراکیت بھی ایک دوسری صورت میں اسی مصیبت کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے جو اس کے مقابل کی انتہا یعنی سرمایہ داری نے پیش کر رکھی ہے۔یعنی یہ دونوں نظام انسان کو جد و جہد کے میدان سے نکال کر کسی نہ کسی کھونٹے کے ساتھ باندھنا چاہتے ہیں اور یہ صرف اسلام ہی ہے جس نے وسطی رستہ اختیار کر کے ایک طرف تو انسان کی انفرادی جد و جہد کو قائم رکھا ہے اور دوسری طرف خاص حالات کے پیش نظر نیز قوم میں اخوت اور اتحاد کی روح قائم رکھنے کے لئے بعض خارجی سہارے بھی مہیا کر دئے ہیں اور یہی وہ رستہ ہے جس سے انسان کا دماغ کند اور منجمد ہونے سے بچ سکتا ہے ورنہ جو لعنت آج دنیا کے سامنے سرمایہ داری نے پیدا کی ہے وہی کچھ عرصہ کے بعد ایک مختلف صورت میں اشتراکیت کے ذریعہ دنیا کے سامنے آنے والی ہے۔استثنائی حالات میں خوراک کی مساویانہ تقسیم دولت کی تقسیم کے متعلق اس حکیمانہ نظریہ کے باوجود جس میں عام حالات کے ماتحت جبری طریق کے اختیار کرنے کے بغیر دولت کو منصفانہ رنگ میں سمونے کا انتظام کیا گیا ہے تا کہ انفرادی جد و جہد کا محرک بھی قائم رہے اور ملکی دولت چند ہاتھوں میں جمع بھی نہ ہونے پائے۔اسلام اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اگر کبھی کوئی ایسے خاص حالات پیدا ہو جائیں کہ کسی ملک یا قوم یا بستی کی خوراک کے ذخیرہ میں کمی آجائے یعنی ایک حصہ کے پاس تو زائد خوراک موجود ہو اور دوسرے حصہ کے پاس اس کی اقل ضرورت سے بھی کم ہو یا بالکل ہی نہ ہو تو اس قسم کے ہنگامی حالات میں خوراک کی مساویانہ تقسیم کا جبری نظام بھی جاری کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزُوَةٍ فَأَصَابَنَا جُهُدٌ حَتَّى هَمَمُنَا أَنْ نَنْحَرَ بَعْضَ ظَهْرِنَا فَاَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعْنَا أَزْوَادَنَا یعنی ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے مگر رستہ میں ہمیں خوراک کی سخت کمی پیش آگئی۔حتی کہ ہم نے ارادہ کیا کہ اپنی سواریوں کے بعض اونٹ ذبح کر دیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سب لوگوں کے خوراک کے ذخیرے اکٹھے کر لئے جائیں پس ہم نے سب ذخیرے اکٹھے کر لئے۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے سب کو مساویانہ راشن بانٹنا شروع کر دیا۔“ ل : مسلم باب استحباب خلط الازواد