سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 796 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 796

۷۹۶ ساتھ انسان کو باندھ دیتی ہے وہاں اشتراکیت یعنی کمیونزم دوسری انتہا کی طرف لے جا کر اور حکومت کے کھونٹے کے ساتھ باندھ کر انسان کو گو یا سلانا چاہتی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ گو یہ انتہا ئیں جدا جدا ہیں مگر حقیقتاً سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں میں یہی اصول چلتا ہے کہ انسان کو انفرادی جد و جہد کے میدان سے نکال کر کسی مضبوط کھونٹے کے ساتھ باندھ دیا جائے جہاں وہ ہر وقت چوکس رہنے کی ضرورت محسوس کرنے کے بغیر آرام کی زندگی گزار سکے۔پس غور کیا جائے تو یہ دونوں افراط و تفریط کی راہیں ہیں جن سے خدائے اسلام لوگوں کو بچا کر جدوجہد کے سرگرم میدان میں کھڑا رکھنا چاہتا ہے۔اشتراکیت کا اصول کیا ہے؟ یہی ناکہ قوم کے سب افراد مل کر متحدہ زندگی گزاریں اور خواہ بعض افراد دوسروں سے کمزور ہوں اور بعض مضبوط اور خواہ بعض سست ہوں اور بعض چوکس ہوں وہ گریں تو اکٹھے گریں اور کھڑے ہوں تو اکٹھے کھڑے ہوں۔مگر غور کرو کہ کیا یہ بھی سرمایہ داری کی طرح ایک غیر طبعی سہارا نہیں جو انفرادی جد و جہد سے انسان کو غافل کرنے کا موجب ہو سکتا ہے؟ بے شک اسلام نے بھی کمزور افراد کے لئے ملک وقوم کا سہارا مہیا کیا ہے۔مگر اس نے کمال دانش مندی سے اس سہارے پر پورا بھروسہ نہیں ہونے دیا اور انفرادی بوجھ کی اصل ذمہ داری افراد پر رکھی ہے اور زائد سہارا صرف جزوی امداد کے طور پر یا غیر معمولی حالات کے لئے مہیا کیا گیا ہے۔پس اسلام ہی وہ وسطی مذہب ہے جس نے سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں انتہاؤں سے بچتے ہوئے ایک درمیانی رستہ کھولا ہے۔وہ نہ تو جمع شدہ اموال کے ساتھ انسان کو باندھ کر اسے سرمایہ داری کے طریق پر بیکار کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی اسے اشتراکیت کے اصول پر کلیڈ حکومت کے سہارے پر رکھ کر اس کی انفرادی جد و جہد کو کمزور کرتا ہے۔چنانچہ مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ - یعنی ”اے مسلمانو! ہم نے تمہیں ایک وسطی امت بنایا ہے تا کہ تم ہر قسم کی انتہاؤں کی 66 طرف جھک جانے والی قوموں کے لئے خدا کی طرف سے نگران رہو۔“ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام نے اپنے اقتصادی نظام میں وسطی طریق اختیار کیا ہے اور اگر کوئی دل و دماغ رکھنے والا شخص اشتراکیت کے مقابلہ پر اسلام کے اقتصادی نظام کے متعلق منصفانہ غور کرنا چاہے تو اس کے لئے اس نکتہ میں بھی بھاری سبق ہے کہ گوانتہاؤں کا فرق ضرور ہے یعنی سرمایہ داری ایک : سورة البقرة : ۱۴۴