سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 792 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 792

۷۹۲ کے نتیجہ میں اپنی جائز ضروریات کو اپنی جائز آمدنی کے اندر اندر پورا نہ کر سکے تو اس کے متعلق اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کی اقل ضرورت جو کھانے اور کپڑے اور مکان سے تعلق رکھتی ہے اس کے پورا کرنے کی ذمہ داری حکومت پر ہے اور اس کا فرض ہے کہ اپنے ملکی محاصل سے ایسے لوگوں کی اقل بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں یہی ہوتا تھا۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جب عرب کے علاقہ بحرین کا رئیس مسلمان ہوا تو آنحضر۔صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایت بھجوائی کہ: أَفْرِضْ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ لَيْسَ لَهُ أَرْضٌ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ وَعَبَاءَةً یعنی جن لوگوں کے پاس زمین نہیں ہے ان میں سے ہر شخص کو ملکی خزانہ میں سے چار درہم اور لباس گزارہ کے لئے دیا جائے۔“ اسی اصول کی طرف یہ قرآنی آیات اشارہ کرتی ہے کہ : إنَّ لَكَ الَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرُى ) وَأَنَّكَ لَا تَطْمَؤُا فِيهَا وَلَا تَضْحى یعنی دو سچی بہشتی زندگی کی یہ علامت ہے کہ اے انسان ! تو اس میں بھوکا نہ رہے اور نہ ہی ضروری لباس سے محروم ہو اور نہ ہی سردی سے ٹھٹھرے اور نہ ہی پیاس کی تکلیف اٹھائے اور نہ ہی دھوپ کی شدت سے جلے۔“ پس ہر اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس بات کا انتظام کرے کہ ملک وقوم کا کوئی فردان اقل ضرورتوں کی وجہ سے تکلیف نہ اٹھائے جو نسل انسانی کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ جہاں تک ملکی دولت کی تقسیم کا سوال ہے اسلام نے اول تو قانون ورثہ اور قانون زکوۃ اور قانون تجارت اور حرمت قمار کے ذریعہ ایسی مشینری قائم کر دی ہے کہ اسے اختیار کرنے کے نتیجہ میں ملکی دولت کبھی بھی عامتہ الناس کے ہاتھ سے نکل کر چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں جمع نہیں ہوسکتی اور اگر بعض استثنائی حادثات کی وجہ سے پھر بھی کوئی فرد یا خاندان زندگی کی اقل ضرورتوں سے محروم رہ جائے تو اس کے لئے اسلام اس بات کی ہدایت فرماتا ہے کہ امیروں کی دولت پر مزید ٹیکس لگا کر غریبوں کی ضرورت کو پورا کیا جائے کیونکہ ہر انسان کا جو زندگی کی جدوجہد میں کوتا ہی نہیں کرتا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ بہر حال بھوکا نہ رہے، ننگا نہ ہو اور سر چھپانے اور سردی گرمی کے بچاؤ سے محروم نہ ہونے پائے۔زرقانی بحوالہ ابن منده جلد ۳ صفحه ۳۵۲ : سورة طه : ۱۲۰،۱۱۹