سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 791 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 791

۷۹۱ قرار دیا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بھی قوم اور ملک کی دولت نا واجب تقسیم کا رستہ کھلتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ یعنی ”اے مسلمانو ! شراب اور جوا اور بتوں کے تھان اور تقسیم کے تیر یقینا ایک شیطانی عمل ہیں پس تم ان سے بالکل دور ر ہو تا کہ تم کامیاب و با مراد ہوسکو اس آیت میں یہ اصول بتایا گیا ہے کہ جوا ان شیطانی اعمال میں سے ہے جو قوموں کی کامیاب زندگی کو تباہ کرنے والے ہیں اور اس کی یہی وجہ ہے کہ جوئے میں دولت کے حصول کو محنت اور ہنر مندی پر مبنی قرار دینے کی بجائے محض اتفاق پر مبنی قرار دیا جاتا ہے جو نہ صرف قومی اخلاق کے لیے مہلک ہے بلکہ ملک میں دولت کی نا واجب تقسیم کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔بظاہر یہ ایک معمولی سا حکم نظر آتا ہے مگر اس سے اس لطیف نظریہ پر بھاری روشنی پڑتی ہے جو اسلام اپنے اقتصادی اور اخلاقی نظام کے متعلق قائم کرنا چاہتا ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کی آمدنی محنت اور ہنر مندی پر مبنی ہونی چاہئے نہ کہ اتفاقی حادثات پر۔میسر کا لفظ بھی جو يُسر ( یعنی سہولت اور آسانی سے نکلا ہے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے کہ جوئے کی آمدنی محنت اور ہنر مندی پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ یونہی بیٹھے بٹھائے آسانی سے مل جاتی ہے جو اسلام کے اقتصادی نظریہ کے سراسر خلاف ہے۔اوپر کی چار اصولی باتیں صرف اختصار کے خیال سے بیان کی گئی ہیں ورنہ اسلام نے اپنے اقتصادی نظام میں دولت کے سمونے کے بہت سے ذریعے تجویز کئے ہیں اور اسلام کا منشا یہ ہے کہ ایک طرف تو ذاتی جد و جہد کا سلسلہ جاری رہے اور ہر شخص کے لیے اپنی ذاتی محنت کے پھل کھانے کا رستہ کھلا ہو کیونکہ دنیا میں محنت اور ترقی کا یہی سب سے بڑا محرک ہے اور دوسری طرف ملکی دولت بھی نا واجب طور پر چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے محفوظ رہے اور یہی وہ وسطی طریق ہے جس پر گامزن ہو کر مسلمان افراط و تفریط کے رستوں سے بچ سکتے ہیں۔معذور لوگوں کی ذمہ واری حکومت پر ہے لیکن اگر با وجود ان ذرائع کے ملک کا کوئی حصہ : سورة المائدة : ۹۱ بیماری یا بیکاری کی وجہ سے یا زیادہ کنبہ دار ہونے