سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 739
۷۳۹ ملکی عہدوں کے معاملہ میں بھی غیر مسلم رعایا کے حقوق کا خیال رکھا جاتا تھا۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے ایک عیسائی ابو زبید نامی کو ایک جگہ کا عامل مقر ر فر مایا تھا لے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور تعامل کے ماتحت حضرت عمر کو اسلامی حکومت کی غیر مسلم رعایا کے حقوق اور ان کے آرام و آسائش کا اتنا خیال رہتا تھا کہ وہ اپنے گورنروں کو تاکید کرتے رہتے تھے کہ ذمیوں کا خاص خیال رکھیں اور خود بھی ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔چنانچہ ایک دفعہ ذمیوں کا ایک وفد حضرت عمر کی خدمت میں پیش ہوا تو حضرت عمر نے ان سے پہلا سوال یہی کیا کہ مسلمانوں کی طرف سے تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں ہے؟ انہوں نے جواب دیا مَا نَعْلَمُ إِلَّا وَفَاء وَحُسُنَ مَلِكَةٍ _ یعنی ”ہم نے مسلمانوں کی طرف سے حسن وفا اور حسن سلوک کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔“ عدل و انصاف محکمہ قضا و عدالت میں مسلم اور غیر مسلم رعایا کے حقوق قانونی رنگ میں تو مساوی تھے ہی مگر عملاً بھی انصاف کا ترازو کسی طرف جھکنے نہیں پاتا تھا۔چنانچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب بنو نضیر کی جلاوطنی کے موقع پر انصار اور یہود کے درمیان اختلاف پیدا ہوا یعنی یہودی لوگ انصار کی اولاد کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے اور انصار انہیں روکتے تھے تو اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے خلاف اور یہود کے حق میں فیصلہ فرمایا تے اسی طرح روایت آتی ہے کہ جب ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے سامنے ایک یہودی اور مسلمان کا مقدمہ پیش ہوا تو انہوں نے یہ دیکھ کر کہ حق یہودی کے ساتھ ہے مسلمان کا مقدمہ خارج کر کے یہودی کے حق میں ڈگری دی۔انہی کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک یہودی قتل ہو گیا اور اس کے قاتل کا کوئی سراغ نہیں چلتا تھا۔حضرت عمرؓ کو اس کا علم ہوا تو وہ گھبرا کر گھر سے نکل آئے اور صحا بہ کو مسجد میں جمع کر کے منبر پر چڑھ گئے اور ایک نہایت زور دار خطبہ دیا جس میں کہا کہ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا اور حکومت اسلامی کی باگ ڈور میرے ہاتھ میں دی۔اب کیا میرے ہوتے ہوئے مخلوق خدا کا اس طرح خون ہو گا۔تم لوگوں کو خدا کی قسم ہے کہ جسے اس واقعہ کے متعلق کچھ علم ہو وہ مجھے بتائے اس پر ایک صحابی بکر بن شداخ کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا۔یا امیر المومنین! یہ قتل مجھ سے اصابہ جلد ۹ صفحه ۱۴۷ حالات ابوز بیدا لطائی الشاعر ابوداؤد کتاب الجہاد باب فى الاسير يكره على الاسلام موطا امام مالک کتاب الاقضية باب الترغيب في القضاء بالحق ۲ : طبری جلد ۵ صفحه ۲۵۶۰