سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 662 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 662

۶۶۲ چکر کاٹ کر ان کے پیچھے ہٹنے کا راستہ بند کر دیا۔اس موقع پر عکرمہ کا ایک جہاں دیدہ سپاہی عمر و بن عبد ودر اپنی پارٹی سے آگے نکل کر انفرادی جنگ کا طالب ہوا۔حضرت علی فوراً اس کے مقابلہ میں نکلے اور تھوڑی دیر کے لئے یہ دونوں جنگجو ایک دوسرے کے سامنے کھڑے رہے۔پھر عمر و اپنے گھوڑے سے اترا اور اس کی کونچیں کاٹ کر اسے نیچے گراد یا اور اس کے بعد اس عزم کے ساتھ علی کی طرف بڑھا کہ یا تو فتح پائے گا یا مارا جائے گا۔پھر دونوں آپس میں گتھم گتھا ہو گئے اور ان کے قدموں کی گرد نے ان کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل کر دیا لیکن ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اس گرد کے بادل میں سے اللہ اکبر کی گرج نکلی اور لوگوں نے سمجھ لیا کہ علی نے عمر د کو مار لیا ہے۔اس موقع پر مسلمانوں کی توجہ کو دوسری طرف مصروف پا کر عکرمہ اور اس کے ساتھی اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگا کر پھر دوسرے پارکود گئے۔سوائے نوفل کے جو کودنے کی کوشش میں گر گیا اور زبیر کے ہاتھ سے مارا گیا۔قریش نے عمرو کی لاش حاصل کرنے کے لئے بہت سا روپیہ مسلمانوں کو دینا چاہا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نفرت کے ساتھ اس تجویز کو ٹھکرا دیا اور عمرو کی لاش اتحادیوں کے یونہی مفت حوالہ کر دی۔اس دن اس کے سوا اور کوئی کارروائی نہیں ہوئی لیکن یہ رات بڑی تیاریوں میں گزری اور دوسرے دن صبح کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تمام اتحادی لشکر کو اپنے سامنے صف آرا پایا۔اتحادیوں کے ہوشیاری کے حملوں سے بچنے کے لئے مسلمانوں کو ہر وقت چوکس رہنا پڑتا تھا۔کسی وقت تو وہ ایک عام دھاوے کی صورت بنا کر حملہ آور ہونے لگتے اور کسی وقت مختلف دستوں میں تقسیم ہو کر ایک ہی وقت میں مختلف موقعوں پر زور ڈال دیتے اور پھر ایک جگہ سے ہٹ کر یکلخت دوسری جگہ پر جا کو دتے اور بالآخر اپنی تمام طاقت جمع کر کے کمزور ترین مقام پر حملہ آور ہو جاتے اور تیروں کی خطرناک بوچھاڑ کی آڑ میں خندق کو عبور کرنے کی کوشش کرتے۔کئی دفعہ خالد بن ولید اور عمرو بن العاص جیسے نامور لیڈروں نے شہر پر حملہ آور ہونے یہ روایت درست نہیں ہے بلکہ یہ واقعہ نوفل بن عبداللہ کی لاش کے متعلق گزرا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے آگے بڑھا تھا مگر زبیر بن العوام کے ہاتھ سے خود قتل ہو کر گرا۔کفار نے اس کی لاش کے معاوضہ میں دس ہزار درہم مسلمانوں کو دینا چاہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روپیہ لینے سے انکار فرما دیا اور لاش یونہی واپس فرما دی۔دیکھو زرقانی جلد ۲ صفحہ ۱۱۴۔