سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 604
۶۰۴ اگر اس جگہ کسی کو یہ اعتراض پیدا ہو کہ نزول کی ترتیب بدلنے سے قرآن کی تاریخی حیثیت ضائع ہوگئی ہے تو یہ ایک بودا اور فضول اعتراض ہوگا کیونکہ اول تو جب حدیث و تاریخ میں قرآنی آیات کی نزول کی ترتیب بیشتر طور پر محفوظ ہے اور ذرا سی محنت اور توجہ کے ساتھ اس بات کا پتہ لگ سکتا ہے کہ کوئی آیت یا سورۃ کب نازل ہوئی تھی تو اس صورت میں ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قرآن کی تاریخی حیثیت ضائع ہوگئی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ وہ پوری طرح محفوظ ہے اور دوست و دشمن نے اسے تسلیم کیا ہے صرف فرق یہ پیدا ہوا ہے کہ اگر قرآن کو اس کے نزول کے مطابق ترتیب دیا جاتا تو اس کی تاریخی حیثیت بدیہی اور عیاں ہوتی اور اب وہ محنت اور توجہ کے ساتھ نکالنی پڑتی ہے۔دوسرے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قرآن شریف کی اصل غرض وغایت تاریخ کی حفاظت نہیں ہے بلکہ اس قانون کا بہترین صورت میں مہیا کرنا ہے جو لوگوں کی تمدنی اور اخلاقی اور روحانی ترقی کے لئے ضروری ہے اور جو بندہ کو خدا تک پہنچا سکتا ہے۔پس اس کی ترتیب میں بھی انہی اصول کا مد نظر رکھا جانا ضروری تھا جوان اغراض کو بہترین صورت میں پورا کر سکتے تھے اور اگر اس کی ترتیب میں ان اصولوں کو قربان کر کے تاریخی پہلو کوترجیح دی جاتی تو یہ ایک نہایت غیر حکیمانہ فعل ہوتا۔اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب بھی اس رنگ کی ترتیب نہیں ہے جس میں عام کتب کی طرح بابوں اور فصلوں اور پیروں وغیرہ میں مضمون کو تقسیم کیا گیا ہو کیونکہ اس قسم کی ترتیب قرآن کی غرض وغایت کے منافی تھی۔قرآن کا دعوی ہے کہ وہ سب اقوام اور سب زمانوں کے لئے ایک شریعت لایا ہے اور اس میں علوم کے خزانے مخفی ہیں جو بقدر ضرورت ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں گے۔اور حدیث میں آتا ہے کہ قرآن کی تحقیق سے علماء کبھی سیر نہیں ہوں گے اور نہ اس کے عجائب کبھی ختم ہوں گے۔اور ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ قرآنی آیات کے صرف ظاہری معانی پر ہی حصر نہیں ہے بلکہ اس کی ہر آیت کے نیچے متعد د بطون ہیں اور ہر بطن آگے متعد دشاخیں رکھتا ہے۔بالفاظ دیگر اسلام قرآن شریف کو ایک روحانی عالم کے طور پر پیش کرتا ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح یہ دنیا ایک جسمانی عالم ہے۔پس اس کی ترتیب کے اصول کو سمجھنے کے لئے بھی ا سورۃ اعراف:۱۵۹،سورۃ فرقان : ۲ ، سورۃ سبا: ۲۹ ترمذی ابواب القرآن جلد ۲ صفحه ۱۴۹ : سورۃ حجر : ۲۲ ، سورۃ بنی اسرائیل:۹۰ : شرح السنہ بحوالہ مشکوة کتاب العلم فصل ثانی وطبرانی کبیر بحوالہ جامع الصغیر سیوطی جلد اصفحہ ۹۱