سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 576
۵۷۶ ملتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اپنے ملک کے حالات کے ماتحت اس قسم کی خبروں کے خطرات کو خوب سمجھتے تھے فوراً ڈیڑھ سو صحابیوں کا ایک تیز رودستہ تیار کر کے اس پر ابوسلمہ بن عبدالاسد کوامیر مقر فرمایا اور انہیں تاکید کی کہ یلغار کرتے ہوئے پہنچیں اور پیشتر اس کے کہ بنو اسدا اپنی عداوت کو عملی جامہ پہنا سکیں انہیں منتشر کر دیں۔چنانچہ ابوسلمہ نے تیزی مگر خاموشی کے ساتھ بڑھتے ہوئے وسط عرب کے مقام قطن میں بنواسد کو جالیا لیکن کوئی لڑائی نہیں ہوئی بلکہ بنو اسد کے لوگ مسلمانوں کو دیکھتے ہی ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔اور ابوسلمہ چند دن کی غیر حاضری کے بعد مدینہ میں واپس پہنچ گئے۔اس سفر کی غیر معمولی مشقت سے ابوسلمہ کا وہ زخم جو انہیں اُحد میں آیا تھا اور اب بظاہر مندمل ہو چکا تھا پھر خراب ہو گیا اور باوجود علاج معالجہ کے بگڑتا ہی گیا اور بالآخر اسی بیماری میں اس مخلص اور پرانے صحابی نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے وفات پائی نے بنو اسد کا رئیس طلیحہ جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے بعد میں مسلمان ہو گیا لیکن پھر مرتد ہو گیا بلکہ نبوت کا جھوٹا مدعی بن گرفتنہ وفساد کا موجب بنا مگر بالآخر شکست کھا کر عرب سے بھاگ گیا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ تائب ہوا اور آخر کئی اسلامی جنگوں میں حصہ لے کر اسلام پر وفات پا گیا۔بنواھیان کی شرارت اور سفیان کا قتل محرم ۴ ہجری قریش کی اشتعال انگیزی اور احد میں مسلمانوں کی وقتی ہزیمت اب نہایت سرعت کے ساتھ اپنے خطرناک نتائج ظاہر کر رہی تھی۔چنانچہ انہی ایام میں جن میں بنو اسد نے مدینہ پر چھا پہ مارنے کی تیاری کی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ قبیلہ بولیان کے لوگ اپنے سردار سفیان بن خالد کی انگیخت پر اپنے وطن عرنہ میں جو مکہ سے قریب ایک مقام تھا ایک بہت بڑ الشکر جمع کر رہے ہیں اور ان کا ارادہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نہایت موقع شناس اور مختلف قبائل عرب کی حالت اور ان کے رؤساء کی طاقت واثر سے خوب واقف تھے اس خبر کے موصول ہوتے ہی سمجھ لیا کہ یہ ساری شرارت اور فتنہ انگیزی بنو لحیان کے رئیس سفیان بن خالد کی ہے اور اگر اس کا وجود درمیان میں نہ رہے تو بنو لحیان مدینہ پر حملہ آور ہونے کی جرات نہیں کر سکتے اور یہ بھی آپ جانتے تھے کہ سفیان کے بغیر اس قبیلہ میں فی الحال کوئی ایسا صاحب اثر شخص نہیں ہے جو اس قسم کی تحریک کا لیڈر بن ل : ابن سعد وزرقانی : اصابہ حالات ابو سلمہ سے زرقانی حالات سریہ ابوسلمہ واصا به حالات طلیحہ بن خویلد : ابن سعد وزرقانی