سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 553
۵۵۳ کے علمبر دار ایک ایک کر کے مارے گئے اور ان میں سے تقریباً نو شخصوں نے باری باری اپنے قومی جھنڈے کو اپنے ہاتھ میں لیا۔مگر سارے کے سارے باری باری مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہوئے۔آخر طلحہ کے ایک حبشی غلام صواب نامی نے دلیری کے ساتھ بڑھ کر علم اپنے ہاتھ میں لے لیا مگر اس پر بھی ایک مسلمان نے آگے بڑھ کر وار کیا اور ایک ہی ضرب میں اس کے دونوں ہاتھ کاٹ کر قریش کا جھنڈا خاک پر گرا دیا لیکن صواب کی بہادری اور جوش کا بھی یہ عالم تھا کہ وہ بھی اس کے ساتھ ہی زمین پر گرا اور جھنڈے کو اپنی چھاتی کے ساتھ لگا کر اسے پھر بلند کرنے کی کوشش کی مگر اس مسلمان نے جو جھنڈے کے سرنگوں ہونے کی قدر و قیمت کو جانتا تھا اوپر سے تلوار چلا کر صواب کو وہیں ڈھیر کر دیا۔اس کے بعد پھر قریش میں سے کسی شخص کو یہ جرات اور ہمت نہیں ہوئی کہ اپنے علم کو اٹھائے یا ادھر مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پاکر تکبیر کا نعرہ لگاتے ہوئے پھر زور سے حملہ کیا اور دشمن کی رہی سہی صفوں کو چیرتے اور منتشر کرتے ہوئے لشکر کے دوسرے پار قریش کی عورتوں تک پہنچ گئے اور مکہ کے لشکر میں سخت بھا گڑ پڑ گئی۔اور دیکھتے ہی دیکھتے میدان قریباً صاف ہو گیا۔حتی کہ مسلمانوں کے لئے ایسی قابل اطمینان صورت حال پیدا ہوگئی کہ وہ مال غنیمت کے جمع کرنے میں مصروف ہو گئے ہے جب عبد اللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اب تو فتح ہو چکی ہے تو انہوں نے اپنے امیر عبداللہ سے کہا کہ اب تو فتح ہو چکی ہے اور مسلمان غنیمت کا مال جمع کر رہے ہیں آپ ہم کو اجازت دیں کہ ہم بھی لشکر کے ساتھ جاکر شامل ہو جائیں۔عبداللہ نے انہیں روکا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکیدی ہدایت یاد دلائی، مگر وہ فتح کی خوشی میں غافل ہو رہے تھے اس لئے وہ باز نہ آئے۔اور یہ کہتے ہوئے نیچے اتر گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف یہ مطلب تھا کہ جب تک کہ پورا اطمینان نہ ہولے درہ خالی نہ چھوڑا جاوے اور اب چونکہ فتح ہو چکی ہے اس لئے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور سوائے عبد اللہ بن جبیر اور ان کے پانچ سات ساتھیوں کے درہ کی حفاظت کے لئے کوئی نہ رہا۔خالد بن ولید کی تیز آنکھ نے دور سے درہ کی طرف دیکھا تو میدان صاف پایا جس پر اس نے اپنے سواروں کو جلدی جلدی جمع کر کے فوراً درہ کا رخ کیا اور اس کے پیچھے پیچھے عکرمہ بن ابو جہل بھی رہے سہے دستہ کو ساتھ لے کر تیزی کے ساتھ وہاں پہنچا اور یہ دونوں دستے عبداللہ بن جبیر اور ان کے چند ساتھیوں کو ایک آن کی آن میں شہید کر کے ا: ابن سعد ابن ہشام ے: طبری : ابن سعد بخاری حالات احد : ابن سعد وزرقانی