سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 551 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 551

۵۵۱ کی طرف بھاگ گئے۔اس نظارہ کو دیکھ کر قریش کا علمبر دار طلحہ بڑے جوش کی حالت میں آگے بڑھا اور بڑے متکبرانہ لہجہ میں مبارز طلبی کی۔حضرت علی آگے بڑھے اور دو چار ہاتھ میں طلحہ کو کاٹ کر رکھ دیا۔اس کے بعد طلحہ کا بھائی عثمان آگے آیا اور ادھر سے اس کے مقابل پر حضرت حمزہ نکلے اور جاتے ہی اسے مار گرایا۔کفار نے یہ نظارہ دیکھا تو غضب میں آکر عام دھاوا کر دیا۔مسلمان بھی تکبیر کے نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھے اور دونوں فوجیں آپس میں گتھم گتھا ہو گئیں غالباً اسی موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا۔”کون ہے جو اسے لے کر اس کا حق ادا کرے۔بہت سے صحابہ نے اس فخر کی خواہش میں اپنے ہاتھ پھیلائے کیے جن میں حضرت عمر اور زبیر بلکہ بعض روایات کی رو سے حضرت ابوبکر وحضرت علی بھی شامل تھے۔۔مگر آپ نے اپنا ہاتھ روکے رکھا اور یہی فرماتے گئے۔”کوئی ہے جو اس کا حق ادا کرے؟ آخر ابو دجانہ انصاری نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور عرض کیا۔یا رسول اللہ! مجھے عنایت فرمائیے۔آپ نے یہ تلوار انہیں دے دی اور ابو دجانہ اسے ہاتھ میں لے کر تبختر کی چال سے اکڑتے ہوئے کفار کی طرف آگے بڑھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا خدا کو یہ چال بہت نا پسند ہے ،مگر ایسے موقع پر نا پسند نہیں۔زبیر جو غالباً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لینے کے سب سے زیادہ خواہش مند تھے اور قرب رشتہ کی وجہ سے اپنا حق بھی زیادہ سمجھتے تھے دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے لگے کہ کیا وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تلوار نہیں دی اور ابودجانہ کو دے دی اور اپنی اس پریشانی کو دور کرنے کے لئے انہوں نے دل میں عہد کیا کہ میں اس میدان میں ابودجانہ کے ساتھ ساتھ رہوں گا اور دیکھوں گا کہ وہ اس تلوار کے ساتھ کیا کرتا ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ابودجانہ نے اپنے سر پر ایک سرخ کپڑا باندھا اور اس تلوار کو لے کر حمد کے گیت گنگنا تا ہوا مشرکین کی صفوں میں گھس گیا اور میں نے دیکھا کہ وہ جدھر جاتا تھا گویا موت بکھیرتا جاتا تھا اور میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا جو اس کے سامنے آیا ہو اور پھر وہ بچا ہوحتی کہ وہ لشکر قریش میں سے اپنا راستہ کا تنا ہوالشکر کے دوسرے کنارے نکل گیا جہاں قریش کی عورتیں کھڑی تھیں۔ہند زوجہ ابوسفیان جو بڑے زور شور سے اپنے مردوں کو جوش دلا رہی تھی اس کے سامنے آئی اور ابودجانہ نے اپنی تلوار اس کے اوپر اٹھائی۔جس پر ہند نے بڑے زور سے چیخ ماری اور اپنے مردوں کو امداد کے لئے بلایا۔مگر کوئی شخص اس کی مدد کو نہ آیا لیکن میں نے دیکھا کہ مسلم باب فضائل ابودجانه وابن ہشام ا : ابن سعد : زرقانی : ابن ہشام