سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 548 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 548

۵۴۸ فرمایا اور لشکر اسلامی کا جائزہ لئے جانے کا حکم دیا۔کم عمر بچے جو جہاد کے شوق میں ساتھ آگئے تھے واپس کئے گئے۔چنانچہ عبداللہ بن عمر، اسامہ بن زید، ابوسعید خدری وغیرہ سب واپس کئے گئے۔رافع بن خدیج انہیں بچوں کے ہم عمر تھے مگر تیراندازی میں اچھی مہارت رکھتے تھے۔ان کی اس خوبی کی وجہ سے ان کے والد نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کی سفارش کی کہ ان کو شریک جہاد ہونے کی اجازت دی جاوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ سپاہیوں کی طرح خوب تن کر کھڑے ہو گئے تا کہ چست اور لمبے نظر آئیں۔چنانچہ ان کا یہ داؤ چل گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت مرحمت فرما دی۔اس پر ایک اور بچہ سمرۃ بن جندب نامی جسے واپسی کا حکم مل چکا تھا اپنے باپ کے پاس گیا اور کہا کہ اگر رافع کو لیا گیا ہے تو مجھے بھی اجازت ملنی چاہئے۔کیونکہ میں رافع سے مضبوط ہوں اور اسے کشتی میں گرا لیتا ہوں۔باپ کو بیٹے کے اس اخلاص پر بہت خوشی ہوئی اور وہ اسے ساتھ لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے بیٹے کی خواہش بیان کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا اچھا رافع اور سمرۃ کی کشتی کرواؤ تا کہ معلوم ہو کہ کون زیادہ مضبوط ہے۔چنانچہ مقابلہ ہوا اور واقع میں سمرۃ نے پل بھر میں رافع کو اٹھا کر دے مارا۔جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سمرۃ کو بھی ساتھ چلنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اس معصوم بچے کا دل خوش ہو گیا۔اب چونکہ شام ہو چکی تھی اس لئے بلال نے اذان کہی اور سب صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی اور پھر رات کے واسطے مسلمانوں نے یہیں ڈیرے ڈال دئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے پہرے کے لئے محمد بن مسلمہ کو منتظم مقر فرمایا جنہوں نے پچاس صحابہ کی جماعت کے ساتھ رات بھر لشکر اسلامی کے اردگرد چکر لگاتے ہوئے پہرہ دیا۔کے دوسرے دن یعنی ۱۵ شوال ۳ ہجری مطابق ۳۱ مارچ ۶۲۴ء بروز ہفتہ سحری کے وقت لشکر اسلامی آگے بڑھا اور راستے میں نماز ادا کرتے ہوئے صبح ہوتے ہی اُحد کے دامن میں پہنچ گیا۔اس موقع پر بد باطن عبداللہ بن ابی بن سلول رئیس المنافقین نے غداری کی اور اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر سے ہٹ کر یہ کہتا ہوا مدینہ کی طرف واپس لوٹ گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات نہیں مانی اور نا تجربہ کارنوجوانوں کے کہنے میں آ کر باہر نکل آئے ہیں، اس لئے میں ان کے ساتھ ا: ابن سعد : ابن ہشام وطبری : ابن سعد ابن ہشام ۵: توفیقات