سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 544
۵۴۴ پچاس ہزار دینا تھی۔رؤسائے مکہ کے فیصلہ کے مطابق ابھی تک دارالندوہ میں مسلمانوں کے خلاف حملہ کرنے کی تیاری کے واسطے محفوظ پڑا تھا۔اب اس روپے کو نکالا گیا اور بڑے زور شور سے جنگ کی تیاری شروع ہوئی۔مسلمانوں کو اس تیاری کا علم بھی نہ ہوتا اور لشکر کفار مسلمانوں کے دروازوں پر پہنچ جاتا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیدار مغزی نے تمام ضروری احتیاطیں اختیار کر رکھی تھیں۔یعنی آپ نے اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کو جو دل میں آپ کے ساتھ تھے مکہ میں ٹھہرے رہنے کی تاکید کر رکھی تھی اور وہ قریش کی حرکات وسکنات سے آپ کو اطلاع دیتے رہتے تھے۔چنانچہ عباس بن عبدالمطلب نے اس موقع پر بھی قبیلہ بنو غفار کے ایک تیز روسوار کو بڑے انعام کا وعدہ دے کر مدینہ کی طرف روانہ کیا اور ایک خط کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے اس ارادے سے اطلاع دی۔اور اس قاصد کو سخت تاکید کی کہ تین دن کے اندر اندر آپ کو یہ خط پہنچا دے۔جب یہ قاصد مدینہ پہنچا تو اتفاق سے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے حوالی قبا میں تشریف لے گئے ہوئے تھے۔چنانچہ یہ قاصد آپ کے پیچھے وہیں قبا میں پہنچا اور آپ کے سامنے یہ بند خط پیش کر دیا۔آپ نے فوراً اپنے کاتب خاص ابی بن کعب انصاری کو یہ خط دیا اور فرمایا کہ اسے پڑھ کر سناؤ کہ کیا لکھا ہے ابی نے خط پڑھ کر سنایا تو اس میں یہ وحشت ناک خبر درج تھی کہ قریش کا ایک جرار لشکر مکہ سے آرہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خط سن کرابی بن کعب کو تاکید فرمائی کہ اس کے مضمون سے کسی کو اطلاع نہ ہو۔اور پھر آپ نے مدینہ میں واپس تشریف لا کر اپنے دوصحابیوں کو شکر قریش کی خبر رسانی کے لئے مکہ کے راستہ کی طرف روانہ فرما دیا۔غالباً اسی موقع پر آپ نے مسلمانوں کی تعداد و طاقت معلوم کرنے کے لئے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مدینہ کی تمام مسلمان آبادی کی مردم شماری کی جاوے۔چنانچہ مردم شماری کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس وقت تک کل پندرہ سو مسلمان متنفس ہیں۔اس وقت کے حالات کے ماتحت اسی تعداد کو بہت بڑی تعداد سمجھا گیا۔چنانچہ بعض صحابہ نے تو اس وقت خوشی کے جوش میں یہاں تک کہہ دیا کہ کیا اب بھی جبکہ ہماری تعداد ڈیڑھ ہزار تک پہنچ گئی ہے ہمیں کسی کا ڈر ہو سکتا ہے؟ مگر انہی میں سے ایک صحابی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہم پر ایسے ایسے سخت وقت آئے کہ بعض اوقات ہمیں نماز بھی چھپ چھپ کر ادا کرنی پڑتی تھی۔ایک ابن سعد زرقانی جلد اصفحه ۴۴۸ : ابن سعد : ابن سعد وابن ہشام ه: ابن سعد بخاری کتاب الجہاد باب کتابتہ الامام و فتح الباری شرح حدیث مذکور زرقانی جلد ۲ صفحه ۲۱