سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 510
۵۱۰ ہدیہ ناظرین کریں گے۔خلاصہ کلام یہ کہ اول تو عصماء اور ابو عفک یہودی کے قتل کے واقعات روایا اور درایتاً درست ثابت ہی نہیں ہوتے اور اگر بالفرض انہیں درست سمجھا بھی جاوے تو وہ اس زمانہ کے حالات کے ماتحت قابل اعتراض نہیں سمجھے جاسکتے اور پھر یہ کہ جو بھی صورت ہو یہ واقعات قتل بہر حال بعض مسلمانوں کے انفرادی افعال تھے جو سخت اشتعال کی حالت میں اُن سے سرزد ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے متعلق حکم نہیں دیا تھا۔