سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 477 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 477

حالات کے اختلاف کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہے اور جہاں بعض احکام جو اصل الاصول کے طور پر ہیں ٹھوس اور غیر مبدل صورت میں رکھے گئے ہیں جن میں کسی تبدیلی کی گنجائش نہیں وہاں بہت سے احکام ایسے بھی ہیں جن میں یا تو حالات کے اختلاف سے حکم کی صورت بدل جاتی ہے اور یا ان میں مختلف حالات کے ماتحت نئی مگر جائز تشریحات کی گنجائش ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن شریف خود فرماتا ہے: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ أَيتُ مُحْكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتَبِ وَأُخَرُ مُتَشْبِهُنَّ ا یعنی ”خدا نے یہ قرآن شریف اس صورت میں اتارا ہے کہ اس کی بعض آیات تو محکم ہیں یعنی اصل الاصول کے طور پر ہیں جو سب حالات میں ایک سی چسپاں ہوتی ہیں اور بعض متشابہات ہیں یعنی ان میں ایسی لچک رکھی گئی ہے کہ وہ مختلف حالات میں ایک دوسرے سے ملتی جلتی مختلف صورتیں اختیار کر سکتی ہیں۔“ خلاصہ کلام یہ کہ غلامی کے متعلق اسلامی تعلیم دو حصوں میں منقسم ہے۔اوّل وہ تعلیم جو ان لوگوں سے تعلق رکھتی ہے جو کسی وجہ سے ظالمانہ غلامی کے چکر میں آچکے تھے اور ان کے اخلاق و عادات میں عموماً نہایت درجہ پستی اور دنائت پیدا ہو چکی تھی اور وہ جو ہر جو انسان کو دنیا میں آزاد زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے ان میں مفقود ہو چکا تھا۔ایسے لوگوں کے متعلق اسلام نے یہ تجویز کی کہ پہلے ان کے اخلاق اور تمدن کو درست کیا جاوے اور پھر جوں جوں ان کی اصلاح ہوتی جاوے وہ ساتھ ساتھ آزاد کئے جاتے رہیں اور ایسا انتظام کیا کہ آزاد ہونے کے بعد ایسے لوگوں کی آزادی حقیقی آزادی ہو نہ کہ محض رسمی اور نمائش کی آزادی اور اس انتظام کی نگرانی کا کام اسلامی حکومت کے فرائض میں داخل کر دیا گیا تا کہ لوگ اس معاملہ میں کسی قسم کی سنتی یا غفلت سے کام نہ لیں۔دوم وہ تعلیم جو غلام بنانے کے سوال کے متعلق اسلام نے اصولی طور پر دی اور جس کی رو سے غلامی کے تمام ظالمانہ طریق قطعی طور پر منسوخ کر دئے گئے۔باقی رہا جنگی قیدیوں کا سوال سواس میں بے شک بعض حالتوں میں انتظامی طریق پر غلامی کی اجازت دی گئی ہے مگر اس کی تفصیلات پر غور کیا جاوے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ اس رنگ کی غلامی نہیں ہے جو غیر اسلامی دنیا میں عام طور پر معروف ہے بلکہ حقیقتا ایک نوع قید کی ہے اور یہ جوابی اور غیر حقیقی غلامی بھی جس کی اجازت دی گئی ہے موجودہ زمانہ میں ناجائز اور حرام ہے کیونکہ اب شاہی قید خانوں کا سسٹم رائج ہو گیا ہے اور کفار مسلمانوں کے قیدیوں کو غلام نہیں بناتے بلکہ شاہی قیدیوں کے طور پر رکھتے ہیں۔اس لئے : سورة آل عمران : ۸