سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 436 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 436

۴۳۶ فَاشْتَرى مِنِّى قَمِيصَى كَرَابِيْسَ فَقَالَ لِغُلامِهِ اخْتَرَاَيْهُمَا شِئْتَ فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا وَأَخَذَ عَلِيُّ الْآخَرَ فَلَبَسَهُ یعنی ” ابونوار جو روئی کے کپڑوں کی تجارت کرتے تھے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت علی ان کی دوکان پر آئے۔اس وقت ان کے ساتھ ان کا ایک غلام بھی تھا علی نے دو ٹھنڈی قمیصیں خریدیں اور پھر اپنے غلام سے کہنے لگے کہ ان میں سے جو قمیص تم چاہو لے لو۔چنانچہ غلام نے ایک قمیص چن لی اور جو دوسری قمیص رہ گئی وہ حضرت علی نے خود پہن لی۔“ اس روایت سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت خاص خاص صحابہ بعض اوقات یہاں تک احتیاط کرتے تھے کہ اپنی چیزوں میں سے انتخاب کا حق پہلے غلام کو دیتے تھے اور پھر جو چیز باقی رہ جاتی تھی وہ خود استعمال کرتے تھے۔یہ انتہائی درجہ کا ایثار ہے جو کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لئے کر سکتا ہے اور یقیناً غلاموں کے متعلق اس درجہ کا ایثار محض حسن سلوک کی غرض سے نہیں ہوسکتا بلکہ اس میں وہی دور کی غرض بھی مد نظر تھی کہ یہ غلام جلد تر اپنے اخلاق اور معاشرت میں آزا دلوگوں کے مرتبہ کو پہنچ کر آزاد کر دیئے جانے کے قابل ہو جائیں۔پھر حدیث میں آتا ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَقُلْ اَحَدُكُمُ عَبْدِي اَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَلْيَقُلْ سَيِّدِى وَمَوْلاَيَ یعنی ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اے مسلمانو! تم یوں نہ کہا کرو کہ ” میرا غلام میری لونڈی بلکہ یوں کہا کرو کہ میرا آدمی میری عورت“ اور غلام بھی اپنے آقا کو رب یعنی مالک نہ کہا کرے بلکہ سید اور بزرگ کہہ کر پکارا کرے۔“ اس حدیث میں آقا اور غلام کی ذہنیتوں کو درست کیا گیا ہے۔یعنی جہاں ایک طرف آقا کے دل ودماغ سے بڑائی اور تکبر کے خیالات کو مٹایا گیا ہے۔وہاں دوسری طرف غلام کے دل میں خود داری اور عزت نفس کے جذبات پیدا کئے گئے ہیں اور عملی اور معاشرتی اصلاح کے ساتھ جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے یہ ذہنی اصلاح مل کر سونے پر سہاگے کا کام دیتی ہے اور اس کے بعد حالات اور خیالات کی کامل تبدیلی میں کوئی امر مانع نہیں رہتا۔اسی طرح اور بھی بہت سی احادیث اور آثار ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسدالغا به حالات حضرت علی جلد ۴ صفحه ۲۴ بخاری کتاب العتق